اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

حافظ شیرازی کی ایک خوبصورت عرفانی غزل: هزار دشمنم ار می‌کنند قصدِ هلاک مترجم حسان خان

حافظ شیرازی کی ایک خوبصورت عرفانی غزل:

==========================

  التماس ، اگر آپ مندرجہ ذیل نظم کا سرائیکی ، بلوچی ، سندھی ، پشتو ، براھوی ،  انگلش یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں ترجمہ لکھ دیں ہم اس ترجمہ کو اپکی زبان اور نام کے ساتھ اسی نظم میں اضافہ کر دیں گے شکریہ ۔

 

هزار دشمنم ار می‌کنند قصدِ هلاک
گرم تو دوستی، از دشمنان ندارم باک
(چاہے ہزاروں دشمن مجھے ہلاک کرنے کا قصد کریں، اگر تم میرے دوست ہو تو مجھے دشمنوں کی پروا نہیں ہے۔)

مرا امیدِ وصالِ تو زنده می‌دارد
وگرنه هر دمم از هجرِ توست بیمِ هلاک
(اے معشوق، مجھے فقط تیرے وصل کی امید زندہ رکھتی ہے۔۔۔ ورنہ ہر لحظہ مجھے تیری دوری سے ہلاکت اور نابودی کا خوف ہے۔)

نفس نفس اگر از باد نشنوم بویش
زمان زمان چو گل از غم کنم گریبان چاک
(اگر میں ہر سانس میں ہوا سے معشوق کی خوشبو نہ سونگھوں، تو ہر وقت غم کی وجہ سے پھول کی طرح اپنا گریبان چاک کرتا رہوں۔)

رود به خواب دو چشم از خیالِ تو؟ هیهات!
بوَد صبور، دل اندر فراقِ تو؟ حاشاک!
(تیرے خیال کو چھوڑ کر میری دونوں آنکھیں سو جائیں؟ کبھی نہیں۔۔۔۔ تیرے فراق میں دل کو صبر آ جائے؟ کبھی نہیں۔۔۔۔)

اگر تو زخم زنی، به که دیگری مرهم
وگر تو زهر دهی، به که دیگری تریاک
(اگر تو زخمی کرے تو یہ دوسرے کے مرہم لگانے سے بہتر ہے۔۔۔ اگر تو زہر دے تو یہ دوسرے کے تریاق سے بہتر ہے۔)

بِضَربِ سَیفِکَ قَتلِی حَیاتُنا اَبَداً
لِاَنَّ رُوحِیَ قَد طابَ اَنْ یَکونَ فِداک
(تیری شمشیر سے میرا قتل میرے لیے حیاتِ ابدی ہے۔ بے شک، میری روح اس میں خوش ہے کہ تجھ پر قربان ہو جائے۔)

عنان مپیچ که گر می‌زنی به شمشیرم
سپر کنم سر و دستت ندارم از فتراک
(اے معشوق، اپنی باگ موڑ کر مجھ سے دور مت ہو، کیونکہ اگر تو مجھے تلوار سے بھی مارے گا تب بھی میں اپنے سر کو سپر بناؤں گا اور تیرے فتراک سے ہاتھ نہ ہٹاؤں گا۔)

تو را چنان که تویی، هر نظر کجا بیند؟
به قدرِ دانش خود هر کسی کند ادراک
(تو جیسا ہے اس طرح تجھے ہر نظر کہاں دیکھ سکتی ہے؟ ہر شخص اپنی سمجھ کے بقدر ہی ادراک کرتا ہے۔)

به چشمِ خَلق عزیزِ جهان شود حافظ
که بر درِ تو نهد رویِ مسکنت بر خاک
(مخلوق کی نگاہ میں حافظ اس وقت با عزّت ہو گا جب تیرے در پر عاجزی سے اپنا چہرہ دھر دے گا۔)

[حافظ شیرازی]

حسان خان

حسان خان

حسان خان ، کراچی کےرہائشی ہیں ۔ ترکی، فارسی شاعری کے تراجم وسطی ایشیاء کی تاریخ، زبانوں سےخصوصی شغف رکھتے ہیں ۔ با اجازت انکے فارسی ترکی تراجم سرائیکی میں ترجمہ کیےجایںگے۔

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
Free counters!
Archives
اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

Free counters!
Archives
error: Content is protected !!