اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

شمشیرِ یداللہ لگائی جو کمر سے کلام میر انیس ۔ انتخاب احمد الیاس

شمشیرِ یداللہ لگائی جو کمر سے
سر پیٹ کے زینب نے ردا پھینک دی سر سے
سمجھاتے ہوئے سب کو چلے آپ جو گھر سے

 

بچّوں کی طرف تکتے تھے حسرت کی نظر سے

اُس غُل میں جدا شہ سے نہ ہوتی تھی سکینہ
پھیلائے ہوئے ہاتھوں کو روتی تھی سکینہ

شہ کہتے تھے بی بی ہمیں رو کر نہ رلاؤ
پھر پیار کریں گے ہم تمھیں منہ آگے تو لاؤ
وہ کہتی تھی ہمراہ مجھے لے لو تو جاؤ
میں کیا کروں میداں میں اگر جا کے نہ آؤ

نیند آئے گی جب آپ کی بُو پاؤں گی بابا
میں رات کو مقتل میں چلی آؤں گی بابا

فرمایا نکلتی نہیں سیدانیاں باہر
چھاتی پہ سلائے گی تمھیں رات کو مادر
وہ کہتی تھی سوئیں گے کہاں پھر اعلی اصغر
فرماتے تھے بس ضد نہ کرو صدقے میں تم پر

شب ہوئے گی اور دشت میں ہم ہوئینگے بی بی
اصغر مرے ساتھ آج وہیں سوئینگے بی بی

وہ کہتی تھی بس دیکھ لیا آپ کا بھی پیار
میں آپ سے بولوں گی نہ اب یا شہِ ابرار
اچّھا نہ اگر کیجیئے جلد آنے کا اقرار
مر جاؤں گی اس شب کو تڑپ کر میں دل افگار

کیسی ہیں یہ باتیں مرا دل روتا ہے بابا
گھر چھوڑ کے جنگل میں کوئی سوتا ہے بابا

اصغر کبھی ساتھ آپ کے اب تک نہیں سوئے
بہلا لیا امّاں نے اگر چونک کے روئے
شفقت تھی مجھی پر کہ یہ بے چین نہ ہوئے
یہ پیار ہو جس پر اُسے یوں ہاتھ سے کھوئے

جیتے رہیں فرزند کہ سب لختِ جگر ہیں
میں آپ کی بیٹی ہوں وہ امّاں کے پسر ہیں

شہ کہتے تھے صدمہ دلِ مضطر پہ ہے بی بی
ہفتم سے تباہی مرے سب گھر پہ ہے بی بی
اعدا کی یُرَش سبطِ پیمبر پہ ہے بی بی
جس نے تمھیں پیدا کیا وہ سر پہ ہے بی بی

چُھوٹے نہ وہ جو صبر کا جادہ ہے سکینہ
ماں باپ سے پیار اس کا زیادہ ہے سکینہ

لو روؤ نہ اب صبر کرو باپ کو جانی
کچھ دیتی ہو عبّاس کو پیغام زبانی
اُودے ہیں لبِ لعل یہ ہے تشنہ دہانی
ملتا ہے تو بی بی کے لیے لاتے ہیں پانی

محبوبِ الٰہی کے نواسے ہیں سکینہ
ہم بھی تو کئی روز کے پیاسے ہیں سکینہ

دنیا ہے یہ، شادی ہے کبھی اور کبھی آلام
راحت کی کبھی صبح، مصیبت کی کبھی شام
یکساں نہیں ہوتا کبھی آغاز کا انجام
وہ دن گئے کرتی تھیں جو اس چھاتی پہ آرام

ضد کر کے نہ اب رات کو رویا کرو بی بی
جب ہم نہ ہوں تم خاک پہ سویا کرو بی بی

سمجھا کے چلے آپ سکینہ کو غش آیا
غُل تھا کہ اٹھا سر سے شہنشاہ کا سایا
ڈیوڑھی سے جو نکلا اسد اللہ کا جایا
رہوارِ سبک سیر کو روتا ہوا پایا

کس عالمِ تنہائی میں سیّد کا سفر تھا
بھائی نہ بھتیجا نہ ملازم نہ پسر تھا

سائے کی طرح جو نہ جدا ہوتی تھی دم بھر
وہ رات کی جاگی ہوئی سوتی تھی زمیں پر
گردوں کی طرف دیکھ کے فرماتے تھے سروَر
تُو سر پہ ہے، تنہا نہیں فرزندِ پیمبر

کچھ کام نہ اس بیکس و ناشاد سے ہوگا
جو ہوگا وہ مولا تری امداد سے ہوگا

میر انیس

احمد الیاس

احمد الیاس

احمد الیاس سائیں لاھور دے رہائشی ہن۔ انہاں دے مضامین دا تعلق تاریخ اسلامی ، اسلامی دنیا دی سیاست ، پاکستانی معاشرے ، سماجی مسائل نال ہے

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
Free counters!
Archives
اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

Free counters!
Archives
error: Content is protected !!