مختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 6 ( حنا عنبرین)۔ جہانگیر سوز

نام–حنا عنبرین

تخلص— حنا عنبرین

سکونت— کروڑ لعل عیسن – لیہ

تصانیف—
شعری مجموعہ ” حنایاب ” طباعت کے مراحل میں ہے

 

حنا عنبرین صاحبہ اردو اور سرائیکی دونوں زبانوں میں شاعری کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔
آپ ایک باعزت ،باشعور اور پڑھی لکھی گھریلو خاتون ہیں۔
آپ ماسٹر ان اسلامیات ہیں۔

آپ کی شاعری حساسیت سے بھرپور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی نظر آتی ہے۔
سرائیکی ادب میں آپ جیسی با ہمت خاتون کا موجود ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سرائیکی ادب اپنی ارتقائی منازل کی بلندیوں کی طرف گامزن ہے۔
اللّہ پاک آپ کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے آمین۔

منتخب کلام۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور آپ نہ ہوتے تو میرا کیا ہوتا

دِلا نہ پاتا مجھے کوئ بھی مقام مرا
۔۔۔۔۔۔۔
ضمیر بیچیں؟ نصیحت سپردِ گوش کریں
بتاؤ کیسے گزارا سفید پوش کریں

اُٹھائیں جو کسی پاکیزگی پہ حرف انہیں
کھلے عذاب کی دعوت ہے آئیں نوش کریں

حواس قابو میں رکھیں قدم قدم پہ یہاں
یہ راہ ِ عشق ہے صاحِب ذرا سا ہوش کریں

لگی ہوئ ہے سبھی کی نگاہ آپ پہ ہی
سو مستفید کریں اور قریب دوش کریں

سفر میں روح نئ پھونک دیں جواں ہمت
بس ایک نعرہ لگا کر بلند جوش کریں

نہ آنکھ نیند سے خالی ہو اور نہ آنکھ لگے
کہ چاق و چست رہیں خود کو سخت کوش کریں

خدارا چپ نہیں ہوتے یہ عیب جُو اک پل
کلیم طور سے آکر انہیں خموش کریں
۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔
ترے بچھڑنے کا دکھ اپنے خاندان کا دکھ
ہماری ذات کو ہے سارےکاروان کا دکھ

حضور آپ کو تو علم ہے حقیقت کا !
حضور آپ تو سنتے تھے بے زبان کا دکھ

خموش بیٹھ کے اک دوسرے کو سنتے ہیں
ضعیف پیڑ سمجھتا ہے نوجوان کا دکھ

سفر طویل ہے اور زاد راہ بھی کم ہے
لگا ہوا ہے مجھے نَم زدہ مکان کا دکھ

سفر میں تُو ہے مگر پاؤں تھک رہے ہیں مرے
تھکا رہا ہے مجھے یوں تری تھکان کا دکھ

کنیز خاص بنا دی گئی تھی شہزادی !
اسے دیا بھی گیا تو اسی کی شان کا دکھ

غریب کے لیے تو دکھ ہی دکھ ہیں دنیا میں
کبھی مکان کا دکھ ہے کبھی دکان کا دکھ

نہیں ہے کچھ بھی یہاں اس حصار سے باہر
کہیں خموشی کا غم ہے کہیں بیان کا دکھ

ایسا غم ہے کہ جو کردے گا مرے بال سفید
اور وحشت بھی کچھ ایسی کہ ہوئے گال سفید

میں نے پتھرائی ہوئی آنکھ سے امبر دیکھا
آن کی آن ہوا تاروں بھرا تھال سفید

لاش اس شخص نے محنت سے بنایا مجھ کو
سرخ چادر کو مرےسرسےہٹا , ڈال سفید

اور پھر نیلا ہوا سارے کا سارا منظر
میں نے دیکھا تھا کسی پھول پہ رومال سفید

اجنبی بنتاہے کیسے کوئ اپنا پل میں
کیسے ہوتاہےگھڑی بھرمیں لہو لال، سفید !

کالے کوے تو بہت جھوٹی خبر دیتے ہیں
تو کبوتر کوئ پیغام رسا پال سفید

ہائے ان پھولوں نے کھا لی مرے گھر کی رونق
پھول بھیجے گۓ تحفے میں تو ہر سال سفید

نظم

یہم نہیں روئیں گے

نیند کے دیوتا کتنے ناراض ہیں آنکھ سے
دل کی ویران بستی میں
چھب تو دکھاتے ہیں لیکن
کبھی اس میں میں بستےنہیں،خواب ہنستے نہیں!
کتنے قرنوں کی !
جاگی ہوئ آنکھ کو کیا خبر
تیری بانہوں میں سو جانے والوں کا کیا حال ہے
ہم نے شکوہ کیا تو زمیں آسماں رو پڑیں گے
مگر ہم نہیں روئیں گے
اپنی تصویر جب تک نہ دیکھیں تری آنکھ میں
ہم نہیں سوئیں گے
لمحہ بھر کی جدائ ہمارے لیے سال ہے
اے خزانوں بھرے !
تو ہماری طرح تھوڑی کنگال ہے…..؟

۔۔۔۔۔۔۔

سرائیکی غزل

اِیڈیاں سوہݨیاں ڱلاں تیکوں کیں سِکھلایاں بندے
دل دِیاں ڱلیاں چَگلیاں پَگلیاں بہوں چمکایاں بندے

مسجد بند اے ، مندر بند اے ، بند کلیسا کعبہ
اکھیاں تیں وَل یار خداوند ہر پل لائیاں بندے

دل تاں دل ہن رَلِن مِلِن مِل مِل کے خوش تھیوِن
بند دروازےاُچیاں کندھاں ، بیچ بنایاں ، بندے

سہج سہج کے پیر رکِھیں تے ڈر ڈر اَڳے جاوِیں
ایں رستے وچ قدم قدم تے ہوسِن کھائیاں بندے

روندیاں روندیاں سُکیاں اَکّھیں ٹھاٹھاں دل دے اندِر
دل دے کعبے ، پاک مسیتاں آݨ ڈَہائیاں ، بندے

او وی ڈینہہ ہَن چار چُفیرے خوشیاں دے ہَن میلے
ہُݨ ہِن میز تے راتِیں ڈینہیں ڈھیر دوائیاں بندے

دل دے ویہڑے سُچے سُتھرے غم دی لاٹ جگاوِݨ
بھائیں لاوَݨ والیاں ہووِݨ جَد بھرجائیاں بندے

اڳلے بھانویں کوہ دیوِݨ یا جِیندیاں پورِن مرضی
اپݨے ہتھیں دِھیاں پیاریاں پِیو پرنائیاں بندے

ٻوہے کھول الٰہی ! تیرے بندے ٻہوں گھبراوِݨ
راتیں ڈینہیں کُنڈیاں تیڈیاں بہوں کھڑکائیاں بندے

ہِکو پل وچ اُڈ پُڈ ویسی دنیا ساری بُھلدَئیں
کم نہ آسِن ہرگز تیڈے اے وڈیائیاں بندے
۔۔۔۔۔۔۔ ۔

اَڑِی کیا گِھنسیں اَڑِی کیا گِھنسیں ؟
سُکھ ساہ گِھنسیں سرگاہ گِھنسیں ؟

اَڑی کملی تھی گئیں ہوش نِوی
ٹَھڈے موسم ویچ کے بھا گِھنسیں ؟

اَڑی مال چراوڑیں سوکھے نئیں
پَنڈ گھا دی سر تے چا گِھنسیں ؟

دنیا نال جھیڑا تھی گیا تاں !
گھر والیں کوں سمجھا گِھنسیں ؟

توں بُکِل ولیٹی عشق دی اے
خَشبو کِھنڈسی مُکلا گِھنسیں ؟

پُچھ عشق تھلوچِنڑ نار کولوں
صحرا گھنسیں ؟ دریا گِھنسیں ؟

منہ زور ہوا اُتوں رات ہوسی
تَتی رات کوں ڈیوا چا گھنسیں ؟

اَڑی عشق مِلیسی مِٹی وِچ
تو دُھوڑ مِٹی سِر پا گھنسیں ؟
۔۔۔۔۔۔۔

حنا عنبرین

مختصر تعارفی سلسلہ

  سرائیکی وسیب دے نامور تے  گمنام ، نویں تے پرانڑے لکھاریاں دے تعارف دا ہک سلسلہ ہے جہیڑا جہانگیر سوز سائیں نے شروع کیتے ۔

شعراء دے کلام دے نال انہاں دا تعارف تے اکٹھا کرنا ہن وݙا کم ہای ۔  جہیڑا جہانگیر سوز سر انجام ݙتے۔ کتاب سرائکی ڈاٹ کام تے ایہ  سلسلہ مستقل شائع تھیسی۔

سرائیکی شعراء کا تعارف ، سرائیکی ادیبوں کا تعارف ، تعارفی سلسلہ مکمل قسطاں پڑھن کیتے اتھاں لنک اوپن کرو۔

http://www.kitaabsaraiki.com/categories/intro

جہانگیر سوز

جہانگیر سوز

جہانگیرسوز سائیں تونسہ شریف دے رہائشی،شاعرتے مشہور ادبی شخصیت ہن۔ انہاں دا اہم سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات دے تعارف ساݙی ویب سائیٹ تے قسط وار شائع تھیندا پے۔ پروفائل اوپن کر کہ پڑھو

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
error: Content is protected !!