اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

کیا آپ جانتے ہیں کہ البانیہ کے قومی شاعر نعیم فراشری اپنی مادری زبان البانوی کے علاوہ فارسی زبان کے بھی شاعر تھے؟ حسان خان

کیا آپ جانتے ہیں کہ البانیہ کے قومی شاعر نعیم فراشری اپنی مادری زبان البانوی کے علاوہ فارسی زبان کے بھی شاعر تھے؟ اُن کی ایک فارسی نظم اردو ترجمے کے ساتھ پیشِ خدمت ہے:

 

  التماس ، اگر آپ مندرجہ ذیل نظم کا سرائیکی ، بلوچی ، سندھی ، پشتو ، براھوی ،  پنجابی  انگلش یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں ترجمہ لکھ دیں ہم اس ترجمہ کو اپکی زبان اور نام کے ساتھ اسی نظم میں اضافہ کر دیں گے شکریہ ۔

(بر تربتِ خواهر)
نزدِ گورت باز می‌آیم کنون
با دلِ بیمار و بیزار و زبون
از تو اینجا می‌نیابم یادگار
ای دریغا! جز بدین خاکِ مزار
لیک از هجر و فراقِ هشت سال
می‌شمارم این زیارت را وصال!
بعد از آن کز تو شدم مهجور و دور
گشته بودم دور نیز از خاکِ گور
می‌شناسی خواهرا! من کیستم؟
من ترا آخر برادر نیستم؟
چونکه از هجرت دلم گشتست زار
آمدم بهرِ تسلی بر مزار!
آه اگر لفظی ز تو بشنیدمی!
مر ترا گر بارِ دیگر دیدمی!
نیست آواه! رسم و راهی در جهان
در میانِ مردگان و زندگان!
اندرونم آتش است از اشتیاق
از غم و اندوه و اکدارِ فراق
پرِ جان از مرگ خواهم، تا پرم
تا بیایم نزدِ تو، ای خواهرم!
تا بیابم مر ترا اندر سما
در میانِ نور، نزدیکِ خدا
(نعیم فراشری)
۱۲۹۶ هجری

ترجمہ: (بہن کی قبر پر) میں بیمار، بیزار اور زبوں دل کے ساتھ اب دوبارہ تمہاری قبر کے پاس آ رہا ہوں۔۔۔ افسوس! اس خاکِ مزار کے سوا یہاں تمہاری کوئی یادگار نہیں پاتا۔۔۔ لیکن پھر بھی آٹھ سال کے ہجر و فراق کے بعد میں اس زیارت کو وصال کی طرح شمار کر رہا ہوں۔۔۔ تم سے جدا اور دور ہونے کے بعد میں تمہاری قبر کی خاک سے بھی دور ہو گیا تھا۔۔۔ اے بہن! پہچانتی ہو میں کون ہوں؟ آخر میں تمہارا بھائی نہیں ہوں؟ چونکہ تمہارے ہجر سے میرا دل بدحال ہو گیا ہے اس لیے تمہارے مزار پر تسلی کے لیے آیا ہوں۔۔۔ آہ اگر ایک لفظ تم سے سن پاتا! آہ اگر تمہیں ایک بار پھر دیکھ پاتا!۔۔۔ افسوس! اس جہاں میں مُردوں اور زندوں کے بیچ رسم و راہ نہیں ہوا کرتی۔۔۔ میرے اندر شوق، غم، اندوہ اور فراق کی تاریکی کے سبب آگ لگی ہوئی ہے۔۔۔ اے میری بہن! میں موت سے زندگی کے پر چاہتا ہوں، تاکہ اڑ کر تمہارے پاس آ سکوں، اور تمہیں آسمان میں خدا کے پاس اور نور کے درمیان دیکھ سکوں۔۔۔

یہ فارسی زبان کی عظمت کی دلیل ہے کہ صرف ایک صدی قبل تک بوسنیا سے لے کر بنگال تک کے اہلِ علم شعراء اپنے احساسات اور خیالات کے اظہار کے لیے فارسی کو ذریعہ بناتے تھے۔ا

حسان خان

حسان خان

حسان خان ، کراچی کےرہائشی ہیں ۔ ترکی، فارسی شاعری کے تراجم وسطی ایشیاء کی تاریخ، زبانوں سےخصوصی شغف رکھتے ہیں ۔ با اجازت انکے فارسی ترکی تراجم سرائیکی میں ترجمہ کیےجایںگے۔

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
Free counters!
Archives
اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

Free counters!
Archives
error: Content is protected !!