میٹھے نبی سائیں ﷺ دی حیاتی قسط اول ۔ تحریر دانیال حسن

 

سیرت خاتم النبین ﷺ
دانیال حسن چغتائی
سیرت النبی کا معنی و مفہوم
سیرت کا معنی ویسے تو راستہ طریقہ اور چلنے کا انداز وغیرہ ہے۔ لیکن جب بھی لفط سیرت بولا جاتا ہے تو اس سے مراد سیرت النبیﷺ ہی ہوتی ہے اور سیرت نبویہ سے مراد یہ ہے کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے وفات اقدس تک کے تمام مراحل حیات،آپ ﷺکی ذات وصفات، آپﷺ کے دن رات اورتمام وہ چیزیں جن کو آپﷺ کی ذات سے تعلقات ہوں خواہ وہ انسانی زندگی کے معاملات ہوں یا نبو ت کے معجزات ہوں ان سب کو سیرت کہا جاتا ہے۔چنانچہ اعلان نبوت سے پہلے اور بعد کے تمام واقعات کا شانہ نبوت سے غار حراء تک اورغار حراء سے غار ثور تک اورحرم کعبہ سے طائف کے بازار تک اورمکہ کی چراگاہوں سے ملک شام کی تجارت گاہوں تک اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے حجروں کی خلوت گاہوں سے لیکر اسلامی غزوات کی رزم گاہوں تک آپﷺ کی حیات مقدسہ کے ہر ہرلمحہ کو سیرت کہتے ہیں۔ سیرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہر چیز کا تذکرہ شامل ہے خواہ وہ جاندار ہو یا بے جان تبھی سیرت لکھنے والوں نے آپ ﷺ کی ازواج مطہرات آپﷺ کی آل و اولاد اور آپﷺ کے اصحاب کے تذکرے کو بھی سیرت کا حصہ کہا ہے۔.اور آپ ﷺکی سواری کے جانوروں آپﷺ کے اسلحہ آپﷺ کے گھروں آپﷺ کے برتنوں کے تذکرے کو بھی سیرت کا حصہ شمار کیا ہے۔.اس اعتبار سے سیرت کا مفہوم بہت وسیع ہو گیا ہے۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔ ہمارا یہ دعوی صرف عقیدت اور محبت کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے اور تاریخ کی گواہی بھی یہی ہے کہ ہر انسان کی کامیابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے۔سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ سیرت کا مطالعہ صرف مسلمانوں کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ غیر مسلم اقوام کے لیے بھی مطالعہ سیرت انتہائی ناگزیر ہے.۔ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مسلمانوں کے لیے صرف علمی مشغلہ نہیں ہے بلکہ ایک فریضہ ہے۔ کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے والدین اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ رکھے۔اور یہ بات مسلم ہے کہ کسی کا بار بار اور اچھے الفاظ میں تذکرہ کرنا محبت میں اضافے کا باعث ہے۔ اور جس سے محبت کی جاتی ہے اس کی زندگی کے سارے احوال کا جاننا ضروری ہے.مذکورہ بالا حدیث کے مطابق مطالعہ سیرت افضل ترین عمل ہے۔ مطالعہ سیرت ایمان و اقتداء کا تقاضہ بھی ہے.۔
کیوں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ پر ایمان لانے کا حکم ہے وہیں رسول پر ایمان لانے اور رسول اللہﷺ کے نقش قدم پر چلنے کا حکم ہے اور نقش قدم پر چلنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی زندگی سے واقفیت ہو۔
سیرت کا مطالعہ قرآن سمجھنے کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رول ماڈل ہیں اور آپ کی زندگی میں ہر شعبے سے وابستہ افراد کے لیے رہنمائی ہے کیوں کہ آپ ﷺداعی بھی تھے ا ور مربی بھی، قاضی بھی تھے اور زاہد بھی، سیاستدان بھی تھے اور حکمران بھی، سپاہی بھی تھے اور راہنما بھی، باپ بھی تھے اور شوہر بھی لہذا اگر آپ داعی ہیں تو آپ کو سیرت نبوی کے مطالعے سے دعوت کے کئی اسلوب ملیں گے۔ جو اسلام کی دعوت میں مفید ثابت ہوں گے، اور معلوم ہوگا کہ کلمہ توحید کی سربلندی کی خاطر تکالیف اور آزمائش کے موقع پر ایک داعی کا صحیح کردار کیا ہونا چاہیے۔اگر آپ ایک خاندان، قبیلے یا فوج کی قیادت کر رہے ہیں، یا زمامِ حکومت سنبھالے ہوئے ہیں تو مطالعہِ سیرتِ نبوی سے آپ کو ایک مضبوط نظام اور مستحکم اسلوب ملے گا۔مطالعہِ سیرت سے زاہدوں کو زہد کا مفہوم، تاجر کو تجارت کے مقاصد و اصول، آزمائش میں مبتلا لوگوں کو صبر و ثبات کے اعلی درجات کا علم حاصل ہوتا ہے۔ گویا مسلمان وہ کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو کسی بھی حالت میں ہو اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں رہنمائی ہے بس ﷺآپ کی زندگی کا مطالعہ کرنے کی ضر ورت ہے.۔
تاریخ بتاتی ہے کے دور جہالت سے انسان آج سے چودہ سو سال پہلے بھی دو چار ہو چکا ہے جب ہر طرف ظلم کے گھٹا ٹوپ بادل چھائے ہوئے تھے انسانیت کا ٹمٹماتا ہوا چراغ بجھنے کو تھا کہ مسیحائے امت رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔پھر انسانی تاریخ نے عروج کی منازل طے کرنا شروع کیں۔. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں کہ پیغمبر امن تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے پندرہویں سال ہی امن کے ایک معاہدے میں شرکت کی.۔ عدل و انصاف کا قیام زیر عمل لایا۔ مذہب یا قومیت کا امتیاز دنیاوی احکامات میں بالکل ختم کیا۔ امیر غریب سردار اور غلام کے لیے ایک قانون وضع کیا. رسول اللہﷺ رفاہی خدمات میں پیش پیش تھے۔غریبوں کے کام آئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشی اصلاحات بھی کیں۔ ایک مکمل معاشی نظام پیش کیا جس کے مطابق تجارت کر کے مسلمانوں نے زمام تجارت جس پہ عرصے سے یہودی قابض تھے اپنے ہاتھ میں لے لی.۔ مختصر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کوششوں کے نتیجے میں وہ جزیرۃ العرب جو چند سال تک میدان جنگ تھا امن کا گہوارہ بن گیا۔ جہاں بھائی بھائی کا دشمن تھا وہاں پورا معاشرہ باہم شیر و شکر ہو گیا۔معاشرے میں یہ سب تبدیلیاں کیسے آئیں؟ یہ جاننے کے لیے بھی مطالعہ سیرت انتہائی ضروری ہے تاکہ اسی نہج پر محنت کر کے ایک مرتبہ پھر پر امن اور کامیاب معاشرہ تشکیل دے سکیں جس معاشرے میں غریب اور نچلے طبقے کا استحصال نہ ہو جہاں ظلم و بربریت کا نام و نشا ن نہ رہے جہاں عدل و انصاف کا بول بالا ہو.

دانیال حسن

دانیال حسن

دانیال حسن سائیں کہروڑپکا دے رہائشی ہن۔ پیشے دے لحاظ نال وکیل ہن، تے صاحب مطالہ نوجوان ہن ، انہاں دے کالم ملک دے نامور اخباراں اچ چھدے رہندن۔

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
error: Content is protected !!