میٹھے نبی سائیں ﷺ دی حیاتی قسط دوئم ۔ تحریر دانیال حسن

:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبی شرافت

نبی کریمﷺ کی پیدائش سب سے اعلی و اشرف خاندان میں ہوئی۔ عرب میں قریش اور قریش میں بنو ہاشم سب سے عزت دار سمجھے جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی عزت دار قبیلے بنی ہاشم میں ہوئی۔.ترمذی شریف میں

: حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے

اللہ رب العزت نے مخلوق کو پیدا کیا اور مجھے ان میں سے سب سے بہتر گروہ میں پیدا کیا پھر قبائل میں سب سے بہتر قبیلے میں پیدا کیا پھر گھروں میں سب سے بہتر گھر میں پیدا کیا سو میں ذات کے اعتبار سے بھی سب

سے بہتر ہوں اور گھر کے اعتبار سے بھی۔

اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار نے مختلف اعتراضات کیے لیکن نسب پر گفتگو کی نوبت نہیں آئی۔بلکہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے جب ہرقل بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کے بارے پوچھا تو ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺکی شرافت نسبی کا اعتراف کیا حالانکہ اس وقت تک حضرت ابو سفیان نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور کفار چاہتے تھے کہ اگر کوئی گنجائش ملے تو آپ ﷺ پر عیب لگائیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔اور والدہ کی جانب سے نسب یہ ہے محمد بن آمنہ بنت وہب بن بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ کلاب بن مرہ پر دونوں شجرے آپس میں مل جاتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے برکات کا ظہور

جس طرح سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح صادق اور شفق احمر سورج کے طلوع ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اسی طرح آفتاب رسالت کے طلوع سے پہلے بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا بیان ہے کہ جب آپ علیہ السلام ان کے پیٹ میں تھے تو انہیں خواب میں بشارت دی گئی کہ وہ بچہ جو تمہارے حمل میں ہے اس امت کا سردار ہے جب وہ پیدا ہو تم اس کا نام محمد رکھنا۔ اور فرماتی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بصورت حمل میرے بطن میں تھے میں نے ایک نور دیکھا جس سے بصری اور شام کے محلات مجھے دکھائی دینے لگے۔اس جیسے اور بھی بے شمار واقعات ہیں جو آپ ﷺکی ولادت سے قبل ہی آپ کی برکات کی مظہر تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت

آپﷺ کی ولادت مشہور قول کے مطابق ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو اسی سال ہوئی جس سال یمن کے بادشاہ نے ہاتھیوں کی فوج لے کے بیت اللہ پر چڑھائی کی تھی اور اللہ رب العزت نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے ان کو ہلاک کیا تھا۔بعض حضرات نے تاریخ پیدائش دو بعض نے آٹھ او بعض نے نو ربیع الاول بھی بتائی ہے۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پیر کے دن ہوئی۔بعض مؤرخین نے آپ کی ولادت 20 اپریل 571 عیسوی ذکر کی ہے ان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسی علیہ السلام کے 571 سال بعد پیدا ہوئے.۔

 :والدین کریمین کی وفات

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والد ماجد عبداللہ مدینہ طیبہ گئے اور اتفاقا وہیں وفات پائی۔ابھی آپ ﷺکی عمر چار یا چھ برس ہوئی تو مدینہ سے واپسی پر ابواء کے مقام پر آپﷺ کی والدہ بھی رحلت فرما گئیں.۔

رضاعت و طفولیت

 

رضاعت کا مطلب ہے بچے کو دودھ پلانااور طفولیت کا مطلب ہے بچپن۔شرفائے عرب کی عام عادت تھی کہ اپنی اولادوں کو دودھ پلانے کے لیے قرب و جوار کے دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے جس سے ان کی نشو نما اور جسمانی صحت اچھی ہو جاتی تھی اور خالص عربی زبان بھی سیکھ لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدائش کے بعد تین دن تک والدہ محترمہ نے دودھ پلایا۔ اس کے بعد چند دن ابو لہب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کی باندی جس کا نام ثوبیہ تھا نے دودھ پلایا۔ اس کے بعد عرب کے رواج کے مطابق آپ کو حلیمہ سعدیہﷺ اپنے ساتھ اپنے قبیلے بنو سعد میں لے گئیں اور وہاں آپ نے ان کا دودھ پیا۔آپﷺ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہی تھے کہ دو فرشتوں نے آپﷺ کا سینہ چاک کر کے اس سے شیطان کا حصہ نکال باہر کیا اور ایمان و دانش سے بھر دیا۔اسی واقعہ کو شق صدر کا واقعہ کہا جاتا ہے.۔

دادا کی وفات

والدین کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی ذمہ داری آپ کے دادا نے لے لی۔ لیکن قدرت دکھلانا چاہتی تھی کہ یہ آفتاب عالم تاب اب محض آغوش رحمت میں پرورش پانے والا ہے۔ مسبب الاسباب اس کی تربیت کا خود کفیل ہو چکا ہے۔. لہذا جب آپ ﷺکی عمر آٹھ سال دو مہینے دس دن ہوئی تو آپﷺ کے دادا کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔.

 

حلیہ مبارک

آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسین و جمیل تھے۔میانہ قد سرخی مائل سفید رنگ کندھے کھلے ہوئے اور سینہ چوڑا تھا۔سر کے بال کان کی لو تک لمبے تھے اور بال سفید نہیں ہوئے تھے۔سر اور داڑھی میں کل بیس بال سفید چمک دار تھے۔آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔ بدن مبارک متناسب اور معتدل تھا۔خاموشی کے وقت رعب اور جلال برستا تھا اور گفتگو کے وقت تازگی اور لطافت جھلکتی تھی۔ جو شخص آپ ﷺکو دور سے دیکھتا تو آپ ﷺکو پیکر حسن و جمال سمجھتا اور جو قریب سے دیکھتا راحت و شیرینی محسوس کرتا۔آنحضرت ﷺکی گفتگو انتہائی میٹھی ہوتی تھی۔ پیشانی کشادہ تھی۔ ابرو باریک اور لمبے تھے۔ درمیان سے ملے ہوئے نہیں تھے۔ناک بلند رخسار نرم دانت مبارک چمک دار اور کشادہ تھے۔آپ ﷺکے دونوں کاندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ اور صفات بیان کرنے والوں کا کہنا ہے کہ میں نے آپﷺ سے پہلے یا آپ ﷺکے بعد آپﷺ جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا۔

حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر بالکل سچا اور آپ کے حلیے کے عین مطابق تھا۔۔۔

جاری ہے ۔

دانیال حسن

دانیال حسن

دانیال حسن سائیں کہروڑپکا دے رہائشی ہن۔ پیشے دے لحاظ نال وکیل ہن، تے صاحب مطالہ نوجوان ہن ، انہاں دے کالم ملک دے نامور اخباراں اچ چھدے رہندن۔

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
error: Content is protected !!