اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

حکمت آمیز باتیں-حصہ اول ذوالفقار علی بخاری

اخبارات کےمطالعے سے ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ ہمارے نام نہاد صحافی حضرات لوگوں کو بدنام کرنے میں اپنا کردار خوب ادا کررہے ہیں۔اکثر اخبارات کی خبروں میں اگر صرف جنسی زیادتی کی خبروں کو ہی دیکھ لیں تو انکے مکمل نام و پتے کے ساتھ خبریں شائع کی جاتی ہیں جیسے یہ اگر کچھ ادھوری ہوں تو شاید پڑھنے والوں کو مزہ نہ آئے۔

 

 

چھوٹی چھوٹی باتیں اکثر زندگی بدل دیتی ہیں اور وہی اکثر جینا دشوار بھی کر دیتی ہیں۔ پتا نہیں ہم لوگ خدا سے ذیادہ لوگوں سے کیوں ڈرنے لگ گئے ہیں، ہم اپنے اعمال سرانجام دیتے ہوئے یہ تو سوچتے ہیں کہ اگر ایسا کرلیا تو لوگ کیا کہیں گے،

ہم لوگوں کو ایسا کرلیا تو کیا منہ دکھائیں گے،ہم یہ بھی نہیں سوچتے ہیں کہ ہم آج کسی کے ساتھ غلط کر رہے ہیں تو رب کو جواب بھی دینا پڑے گا،مگر ہم بےحس ہو چکے ہیں، ہماری غیرت مرچکی ہے مگر ہم آج بھی کہتے ہیں کہ ہم غیرت مند ہیں، ہم اپنوں کا حق کھا لیتے ہیں مگر اللہ کے نام پر لاکھوں لوٹا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم سے بڑا کر کوئی سخی نہیں بے،

ہم میں سے اکثر لوگ منافق ہیں مگر خود کو اعلی قسم کا مومن سمجھتے ہیں مگر پھر بھی کچھ معاملات میں اللہ سے زیادہ خاندان والوں سے ڈرتے ہیں کہ وہ باتیں بنائیں گے کہ ایسا کرکے تو خود کو بڑا مولوی ظاہر کرتے پھرتے ہوِ؟ جب کوئی نیک عمل کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے پھر اللہ بھی اس کے لئے راستے خود بخود کھولتا جاتا ہے جب ہم ساتھ نبھانے کے لئے تیارہوجاتے ہیں تو دوسرے ساتھ چھوڑنے کا سوچتے ہیں،سمجھ نہیں آتا ہے کہ ہم اگر چھوڑنا ہی چاہتےہیں تو پھر کسی کے ساتھ تعلق ہی کیوں بناتے ہیں۔جو رکھنا چاہتا ہے اس کا ساتھ دینے کی بجائے ہم الگ منرل کی طرف کیوں جاتے ہیں۔بہتر جواب یہی لگتا ہے کہ ہم وقت گذاری کر رہے ہوتے ہیں اور درحقیقت ہماری منزل کچھ اور ہوتی ہے مگر ہم ظاہر یہی کرتے ہیں کہ بس منزل یہی ہے۔

وقت آنے پر ہم دوسرے کو روتا چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف نکل پڑتے ہیں اسی وجہ سے ہم منافق کہلاتے ہیں۔ کہ بس اپنے مفادات عزیز تر رکھتے ہیں۔ ہمیں جب تک اپنی تکلیف نہ محسوس ہو ہم دوسروں کی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں کرتے ہیں اور یہی ہمارے معاشرے کا آج کل بڑا المیہ بن چکا ہے ہم اپنے اعمالوں کے تنائج کو دیکھتے ہوئے بھی اپنا قصور تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے ہیں؟

 

ہم اپنوں کے ساتھ برا سلوک دیکھ کر تو تڑپ جاتے ہیں مگر کسی کے ساتھ خود تعلق بنا کراس کو ذلیل کروانے پر کبھی افسوس نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی معافی طلب کرتے ہیں۔شاید ہمیں یہ احساس تب ہی ہوتا ہے کہ ہمارے اپنوں کا دکھ اپنا ہے، جس کے ساتھ جذباتی تعلق رہا ہو وہ غیر ہے اور غیر کو جتنا بھی دکھ دے لیں وہ سہ لے گا۔اسی وجہ سے آپ دیکھ لیں ہر رشتے میں منسلک افراد کچھ ایسا ہی کرکے اپنی زندگی میں خوش رہنے لگ جاتے ہیں،دوسروں پر جو گذرتی ہے وہ گذر جائے،

بے حس فرد پر کچھ اثر نہیں ہوتا ہے۔ حق بات کرنی چاہیے،جب تک ایسا نہیں ہوگا کسی کی برائی ختم نہیں ہو سکے گی، اکثر ہم لوگ اس لئے سچ نہں بولتے ہیں کہ ہمارے کام نہ رک جائیں یا مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ہمیں اپنے رب پر یقین کامل رکھتے ہوئے سب کچھ وار دینا چاہیے۔اگر ہماری نیت سچی ہوگی تو پھر یہی سچائی ہمارے سب کام بھی سنوار دے گی۔ اگر کوئی اچھا کام کررہا ہے تو آپ اسکی تعریف سامنے نہ کر سکیں تو بھی اس کو دوسروں کے سامنے اچھا کہنے کی کوشش کریں تاکہ لوگوں میں بھی اچھائی کا رجحان پیدا ہو سکے۔اکثر ہم نہ تو خود اچھا کہہ سکتے ہیں اور نہ کرتے ہیں اور نہ کسی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اس طرزعمل کو اپنی ذات سے ختم کرنے کی کوشش کیجئے۔ اپنی کل کو بھول جائیں کیا ہوا،کیوں ہوا؟

 

اپنی آنے والی کل کے ایک ایک پل کو یوں گذاریں جیسے یہ آج ہی کا دن ہے جس کو خوشی سے جینا ہے۔ہر روز یہ سوچ کرسوجائیں کہ صبح خوشی کا سورج دیکھنا ہے اوراپنی خوشی کی بجائے دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونا شروع ہو جائیں کہ اصل خوشی یہی ہے۔اگر اپنی خوشی دیکھنی ہے تو پھر لوگوں کی پروا کرنا چھوڑدیں اورجو بھی ہو آپ وہ کریں جو کرنے کا دل ہے اور اسی میں خوش رہیں۔آپ کو کبھی یہ محسوس نہیں ہوگاکہ آپ اُداس ہیں جو اپنی خوشی بھی نہیں دیکھتے ہیں اور دوسروں کی خوشی میں بھی شامل نہیں ہو سکتے ہیں وہ پھر کشمکش میں ہی رہتے ہیں۔

 

یہ معاشرہ کبھی بھی سدھر نہیں سکتا ہے جہاں مرد اپنے گناہ کر کے عزت دار بنے رہتے ہیں مگر عورت کو اُس کی ذرا سی غلطی اور گناہ پر قتل کر دیا جاتا ہے یا زندگی بھر عذاب بھگتنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مجرم کو سدھارنے کی بجائےہم لوگ خود ہی سزا دے کر مجرم بننے کی تمنا رکھتے ہیں۔بے غیرت لوگ غیرت کے نام پر قتل کر کے کبھی غیرت مند نہیں بن سکتے ہیں۔ہمیں اسلامی قوانین کے مطابق پہلے خود کو دیکھنا چاہیے کتنے پانی میں ہیں پھر کسی کو سزا دینا چاہیے۔ جب تک انسان اللہ تعالی کا فرماں بردار نہیں ہو جاتا ہے اُ س وقت تک رب العزت اُس کو اپنی تابعداری میں لانےکےلئے آزماتے رہتے ہیں کہ وہ رب کے حکم پر چلنے والا بن جائے،یہ بھی اُسی ذات کی چاہت ہوتی ہے کہ وہ کسی کو ہدایت والی راہ پر چلاتا ہے،جو اللہ کے حکم کے آگے سرنگوں ہوتے ہیں وہی فلاح پاتے ہیں ورنہ نافرمانوں کو کسی نہ کسی وسیلے سے سزا ملتی رہتی ہے مگر بہت عقل ہی عبرت حاصل کرتے ہیں۔ آج کے دور میں ہنرمند ہونا بے حد اہمیت رکھتا ہے اگر آپ کے پاس ہنر ہے تو پھر آپ کہیں پر بھی روزی کما سکتے ہیں۔

 

محض تعلیمی ڈگریاں حاصل کرلینا اکثر بہت سارے مسائل کا شکار بھی کردیتا ہے۔آپ کوشش کریں کہ ایسی تعلیم حاصل کریں جس سے آپ کو روزگار بھی آسانی سے مل سکے۔آج بہت سے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لئے اچھی نوکری تلاش کرتے ہیں مگر کہیں پر محض چھوٹی کمائی سے اپنا ذریعہ معاش بنا کر گذر بسر کرنے یا بعدازں اچھی نوکری کی کوشش نہیں کرتے ہیں لیکن یہ شکوہ ضرورکرتے ہیں کہ ہمیں جناب نوکری نہیں ملتی ہے۔اکثر تو آج کل نوکریوں کے حصول کے نظام کو ہی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے ہیں کہ وہ خود کس قدر قابل ہیں؟ ہر انسان اپنے مفادکے بارے میں سوچتا ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ انکا مفاد اکثر دوسروں کو تکلیف دینے سے ہی پورا ہوا کرتاہے چھوٹی ذہنیت کے لوگوں کی باتوں سے دل برداشتہ ہونا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی ہے۔ خود کو مار لینا،خودکشی کرلینا ہر مسئلے کا حل نہیں ہے ،

 

لیکن کچھ لوگ اُس حد تک لے جاتے ہیں کہ یہی ایک حل بہتر اورمناسب لگتا ہے تب ہی لوگ مرجاتے ہیں۔لیکن کچھ لوگوں پر تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ خود ساختہ مجبوری،انا اورضد میں الجھے لوگ کہاں محسوس کرسکتے ہیں۔ اخبارات کےمطالعے سے ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ ہمارے نام نہاد صحافی حضرات لوگوں کو بدنام کرنے میں اپنا کردار خوب ادا کررہے ہیں۔اکثر اخبارات کی خبروں میں اگر صرف جنسی زیادتی کی خبروں کو ہی دیکھ لیں تو انکے مکمل نام و پتے کے ساتھ خبریں شائع کی جاتی ہیں جیسے یہ اگر کچھ ادھوری ہوں تو شاید پڑھنے والوں کو مزہ نہ آئے۔

ان سطور کے ذریعے تمام اخبارات کے مالکان و ایڈیٹر صاحبان سے گذارش ہے کہ وہ ایسی خبروں میں کم سے کم متاثرہ فرد کے حوالے سے تفصیلات شائع کرنے سے گریز کریں تاکہ انکی عزت نفس مجروح نہ ہو سکے۔ایک تو وہ ظلم کا شکار ہوتے ہیں اور دوسرا ہمارے ذرائع ابلاغ کے نمائندے کسر پوری کر دیتے ہیں۔ سچائی کڑوی ہوتی ہے آپ لاکھ پردوں میں بھی چھپا کر پیش کریں یہ لوگوں کو سن کر بہت بری لگتی ہے۔مجھے یہ بات بری لگتی ہے کہ آپ سچائی کو مناسب الفاظ میں بیان کرو،جب سچ کہنا ہے توسچ بول دیں۔ہم اچھے انداز میں کہیں یا طنزیہ لہجے میں سچائی اپنا اثر رکھتی ہے اور جن میں حوصلہ ہو وہی اس کو برداشت کرتے ہیں ورنہ آپ ہی کی توہین کردیتے ہیں۔ سچ کی بڑی قیمت یہی ہوتی ہے کہ آپ سب گنوا کر بھی حق بات کریں۔

Zulfiqar Ali Bukhari

Zulfiqar Ali Bukhari

جناب زیڈ۔اے بخاری صاحب سرائیکی خطے نال تعلق رکھن والے علم دوست شخصیت ہن،کئی اخباراں تے رسائل وچ لکھدے پے ہن۔

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
Free counters!
Archives
اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

Free counters!
Archives
error: Content is protected !!