نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں

سب تو زیادہ پڑھی ڳئ

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔ تلے آلا بٹن دباو

سیاسی حقوق کی کتنی اقسام ہیں ۔ ؟ تحریر احمد الیاس ایک اہم سماجی مضمون

یہ تحریر مختلف زبانوں میں پڑھیں۔

سیاسیات میں حقوق کی دو قسمیں ہیں۔

۱۔ انفرادی حقوق جو انسان کو شخصی طور پر حاصل ہوتے ہیں۔

۲۔ اجتماعی حقوق جو انسانوں کی مختلف اجتماعیتوں (لسانی، نسلی، مذہبی، علاقائی، ثقافتی وغیرہ) کو حاصل ہوتے ہیں۔

جدید دور میں انفرادی حقوق کی تحریکوں کی جڑیں لبرل ازم میں ہیں جبکہ اجتماعی حقوق کی تحریکوں کے ڈانڈے قوم پرستی سے ملتے ہیں۔

 

انفرادی حقوق کی تحریکوں کے ہاں تو افراد کے حقوق میں حتی الامکان مساوات کا نصب العین موجود ہے لیکن اجتماعی حقوق کی تحریکوں میں حقوق کی مساوات کا عنصر لازمی طور پر موجود نہیں ہوتا، بلکہ مخصوص اجتماعیتوں کو دیگر اجتماعیتوں سے زیادہ حقوق بھی حاصل ہوتے ہیں اور ایک اجتماعیت کی نام پر دوسری کسی اجتماعیت کے حقوق مارے بھی جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو کوئی اجتماعیت کسی دوسری اجتماعیت کے نام پر اجتماعی حقوق کے مطالبے کے سبب وجودی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہوتا ہے کہ انسان بیک وقت کئی شناختوں کی بنیاد پر کئی اجتماعیتوں کا حصہ ہوتا ہے اور ایک اجتماعیت کو ہی اجتماعی حقوق کی بنیاد بنانے پر اس کی دوسری شناختیں اور ان سے وابستہ اجتماعیتیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

اس کی ایک نمایاں مثال خود برصغیر میں موجود ہے۔ یہاں سیکولر انڈین نیشنلزم متعارف ہوئی جو ہندوستانیوں کے اجتماعی حقوق کی ایک تحریک تھی۔ لیکن اس کے نتیجے میں پہلے مسلم اجتماعیت نے اپنے وجود کے لیے خطرہ اور امتیاز محسوس کیا اور پھر خود ہندو اجتماعیت نے بھی۔

محمد علی جناح جس وقت انگلستان سے قانون کی تعلیم حاصل کرکہ ہندوستان آئے تو وہ نیشنلسٹ سیاسی افکار سے نہیں بلکہ لبرل سیاسی افکار سے متاثر ہوکر آئے تھے اور انفرادی حقوق کی ٹرمز میں سوچتے تھے۔

وہ انگریز حکومت سے ہندوستانیوں کے لیے بتدریج انگلستان کے شہریوں جیسے انفرادی حقوق اور جمہوریت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ آسٹریلیا اور کینیڈا اور نیوزی لینڈ جیسے ملکوں میں ایسا ہی ہوا تھا۔ یہ ملک کسی انقلابی یا قوم پرست تحریک کے نتیجے میں آزاد نہیں ہوئے بلکہ انگریز کے بتدریج انہیں برابر جمہوری اور انفرادی حقوق دینے کے سبب عملاً لندن میں بیٹھی پارلیمنٹ کی عملداری سے نکل آئے۔ جناح صاحب اور ان جیسے لوگ اسی قسم کی آزادی کا ویژن رکھتے تھے۔
کانگرسی قیادت اور اور بالخصوص گاندھی اور نہرو کی جنریشن نے نیشنلزم اور اس سے جڑا اجتماعی حقوق کا فلسفہ متعارف کروایا اور ہندوستانیوں کے اجتماعی حقوق مانگتے ہوئے انگریزوں سے یکمشت انقلابی آزادی کا مطالبہ کیا۔ بظاہر اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔ آزادی ہندوستان کا حق تھا۔ لیکن یہ آزادی اجتماعی حقوق یعنی ایک وطنی اجتماعیت / قوم کی حیثئیت سے مانگنے کے سبب اس اجتماعیت یا “قوم” میں شامل لوگوں کی دیگر شناختوں کی نفی ہونے لگی یا انہیں ثانوی حیثئیت ملنے لگی جس سے ان دیگر شناختوں سے وابستہ ذیلی اجتماعیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا اور اس احساس نے انہیں ہندوستان اور ہندوستانی اجتماعیت سے علیحدگی پر مجبور کیا۔

لہذا اجتماعی حقوق کا تصور یا تحریکیں بہت خطرناک اور حساس معاملہ ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اجتماعیتوں یا اجتماعی حقوق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اجتماعی حقوق میں مساوات ضروری ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک جیسی اجتماعیتوں کے حقوق برابر ہوں، بلکہ صرف کسی ایک نوعیت کی اجتماعیت (مثلاً وطنی اجتماعیت) کو مسلط کردینے اور دیگر نوعیت اجتماعیتوں (مثلاً مذہبی اجتماعیت) کی نفی سے لازمی طور پر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

احمد الیاس

احمد الیاس سائیں لاھور دے رہائشی ہن۔ انہاں دے مضامین دا تعلق تاریخ اسلامی ، اسلامی دنیا دی سیاست ، پاکستانی معاشرے ، سماجی مسائل نال ہے

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو

ہیندے نال دیاں بیاں لکھتاں ݙیکھو

نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں
Free counters!
error: Content is protected !!