قائد اعظم کا گاندھی کے نام خط ہندوستانی قوم کے نظریہ سے متعلق ۔ احمد الیاس

ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ،
مالابارہل، بمبئی۔
21 جنوری 1940.

پیارے گاندھی صاحب،

مجھے آپکا 16 جنوری کا تحریر کردہ خط اور ہریجن کو بھیجے گئے آپ کے مضمون کی پیشگی نقل موصول ہوگئی ہے۔ میں نہ صرف آپکی اس نوازش کے لیئے

آپ کا شکرگزار ہوں بلکہ میرے پیغامات اور کاموں میں پائی جانے والی فکر مندی کو ختم کرنے کے لیئے آپ جو کوشش کر رہے ہیں، میں اس کے لیئے بھی آپکا ممنون ہوں۔ تاہم مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کا طرزِ فکر غلط ہے کیونکہ آپ ہندوستانی قوم کے نظریہ سے آغاز کرتے ہیں جس کا کوئی وجود ہی نہیں، اور ظاہر سی بات ہے کہ اسی لیئے آپ کے نتائج بھی غلط ہوتے ہیں۔ میں پھر بھی یہ سوچ رکھتا تھا کہ آپ کو کم از کم یک طرفہ اخباری رودادوں اور من گھڑت کہانیوں سے بہکایا نہیں جاسکتا۔ آپ کے مضمون میں بہت کچھ ایسا ہے جو محض ذہنی اختراعات پر مبنی ہے۔اس کی کچھ وجہ تو یہ ہے کہ آپ شےگاؤں میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں اور کچھ یہ کہ آپ کے تمام تر خیالات اور اعمال آپ کی “اندر کی آواز” پر مبنی ہوتے ہیں۔

آپ کا حقائق یا جسے عام آدمی کی اصطلاح میں “عملی سیاست” کہا جاتا ہے، سے بہت کم واسطہ ہے۔ میں کئی بار حیران ہوتا ہوں کہ عملی سیاست اور آپ کے درمیان کیا قدر مشترک ہوسکتی ہے، جمہوریت اور ایک ایسی سیاسی جماعت کے آمر کے درمیان جس کے آپ چار آنے کے رکن بھی نہیں ہیں۔ لیکن میرے خیال میں اسکی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ آپ کانگریس کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اسکا رکن بنیں۔

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ آپ گلبرگہ سے بھیجی جانے والی “یومِ نجات” کی مبارکباد سے برہم نہیں ہوئے۔ “قائد اعظم جناح زندہ باد” کی خاموش دعا میں شریک ہونا یقینی طور پر آپکا نیک عمل تھا۔ اگرچہ یہ معمولی معاملات ہیں، بہرحال میں اس بات کی تعریف کرتا ہوں کہ آپ کو “یوم نجات” کے حقیقی معنی اور اسکی اہمیت کا احساس ہوگیا ہے۔

یہ سچ ہے کہ کانگریس سے تعلق نہ رکھنے والے بہت سے ہندوؤں نے ہمارے مقصد سے اتفاق کرتے ہوئے یوم نجات کے لیئے ہمدردی ظاہر کی تھی، اسی طرح جسٹس پارٹی کے راہنماؤں اور کمتر ذاتوں اور پارسیوں نے بھی جو بہت کچھ برداشت کرتے رہے تھے۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس باہمی اتفاق کو آپ نے جو معنی دینے کی کوشش کی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اسکی حقیقی اہمیت کو نہیں سمجھ سکے۔ یہ کچھ تو “ضرورت نے اجنبیوں کو ساتھ لاکھڑا کیا” والا معاملہ تھا اور کچھ حد تک اس کی وجہ یہ ہے کہ شاید مشترکہ مقصد اقلیتوں کو ساتھ ملنے پر مائل کردے۔ مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں اور میں دوبارہ یہی کہوں گا کہ ہندوستان نہ تو ایک قوم ہے اور نہ ہی ایک ملک۔ یہ کئی اقوام پر مبنی برصغیر ہے جن میں مسلمان اور ہندو دو بڑی قومیں ہیں۔

آج آپ اس بات سے انکاری ہیں کہ کسی قوم کے تعین میں مذہب اہم عنصر ہوسکتا ہے، لیکن ایک بار جب آپ سے مقصد زندگی “وہ چیز جو ہم سے وہ سب کرواتی ہے جو ہم کرتے ہیں” کے بارے میں پوچھا گیا، کہ کیا وہ مذہب سے متعلق ہے، سماجیات سے متعلق یا پھر سیاست سے متعلق تو خود آپ نے یہ کہا تھا کہ “خالصتاََ مذہب سے متعلق”  ۔

. یہ سوال آنجہانی مونٹاگو نے اس وقت پوچھا تھا جب وہ اس وفد کے ساتھ آئے تھے جو خالصتاََ سیاسی تھا۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ “آپ جیسے سماجی خدمتگار نے کیسے اس “ہجوم کا” راستہ اختیار کرلیا” اور جواب تھا کہ “یہ تو بس میری سماجی سرگرمیوں کی ہی ایک شاخ ہے۔ میں اس وقت تک مذہبی زندگی بسر نہیں کرسکتا جب تک میں خود کو پوری انسانیت سے نہ جوڑ لوں، اور یہ میں اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک سیاست میں حصہ نہ لوں۔ آج انسانی سرگرمیوں کے تانے بانے ناقابل تقسیم مکمل شکل تشکیل دیتے ہیں۔ آپ سماجی، معاشی، سیاسی اور خالصتاََ مذہبی کام کو الگ تھلگ حصوں میں تقسیم نہیں کرسکتے۔ میں ایسے کسی مذہب کے بارے میں نہیں جانتا جو انسانی سرگرمیوں سے بالکل الگ ہو۔ یہ دیگر تمام سرگرمیوں کو اخلاقی جواز مہیا کرتا ہے، جو دوسری صورت میں ممکن نہیں، یہ زندگی کو بےمقصد آواز اور غصے کی بھول بھلیوں میں گم ہونے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔”

آج کسی بھی دوسرے شخص کی نسبت آپ کو ہندوستان کے ہندوؤں کا زیادہ اعتماد حاصل ہے اور ان کی طرف سے کام کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ کیا یہ امید اور توقع رکھنا بہت زیادہ ہوگا کہ توقعات کے غلط ثابت ہونے پر آپ اپنا راستہ چھوڑ دیں گے اور اپنا آئینی کردار ادا کریں گے۔ چیزیں بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں، حجت بازی کی مہم یا ہریجن میں مابعدالطبیعیات، فلسفہ اور اخلاقیات کے بارے میں آپ کی ہفتہ وار گفتگو، یا کھدر، اہمسا اور سوت کاتنے کے حوالے سے آپ کے مخصوص عقائد کے زریعے ہندوستان کی آزادی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ صرف عملی اقدامات اور سیاسی تدبر ہی ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ملک کی خدمت کرکے اور ہندوستان کو اطمینان اور خوشیوں کا مرکز بنانے کے لیئے اپنا کردار ادا کرکے بھی آپ کے قد میں اضافہ ہوگا۔

آخر میں، میرے نام کے ساتھ “سابقہ” لگانے کے معاملے پر میری خواہش کے حوالے سے آپ کی فکر مندی پر میں آپکا ممنون ہوں۔ ویسے نام کے ساتھ لگے “سابقہ” میں کیا رکھا ہے، گلاب کو کسی بھی نام سے پکارا جائے وہ ویسی ہی پیاری خوشبو دے گا۔ چنانچہ میں یہ معاملہ آپکی صوابدید پر چھوڑتا ہوں اور اس بارے میں میری کوئی خاص خواہش نہیں ہے۔ مجھے حیرانی ہے کہ آپ اس بار اس قدر معذرت خواہ کیوں ہیں۔ تاہم میں نے محسوس کیا ہے کہ اس وقت آپ جو سابقہ استعمال کررہے ہیں وہ آپ کو حکیم صاحب مرحوم کے سیکھائے طریقے کے مطابق ہے۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ انکی زندگی میں اور انکی وفات کے کافی عرصے بعد تک بھی آپ مجھے “مسٹر” کہہ کر مخاطب کرتے رہے ہیں جبکہ حال ہی میں آپ نے مجھے “شری” کہہ کر مخاطب کیا تھا اور درمیان میں “دوست” کہہ کر بھی بلاتے رہے ہیں، لیکن براہ کرم اس بارے میں زیادہ پریشان نہ ہوں۔

آپ کا مخلص
[محمد علی جناح]

موہن داس کرم چند گاندھی
شےگاؤں۔

__________________________________________________

Mount Pleasant Road,
Malabar Hill,
Bombay.
January 21, 1940.

Dear Mr. Gandhi,

I am in receipt of your letter of 16th January and the advance copy of the article you have sent to the Harijan. I not only thank you for your courtesy but also for your anxiety to further the end you have been reading in my messages and actions.
I, however, regret to have to say that your premises are wrong as you start with the theory of an Indian Nation that does not exist, and naturally, therefore, your conclusions are wrong. I should have thought, however, that you at least would not be led away by one-sided newspaper reports and canards. There is so much in your article which is the result of imagination. It is due partly to the fact that you are living a secluded life at Segaon, and partly because all your thoughts and actions are guided by “inner voice”.

You have very little concern with realities, or what might be termed by an ordinary mortal “practical politics”. I sometimes wonder what can be common between practical politics and yourself, between democracy and the dictator of a political organisation of which you are not even a four anna member. But that is, I suppose, because you do not consider the Congress worthy of your membership.

I am glad to learn that you were not ruffled by the “Deliverance Day” greetings sent to you from Gulbarga. It was indeed noble of you to join in the silent prayer “Long Live Qaid-i-Azam, Jinnah”. Although these are trivial matters, I nevertheless appreciate that you have realised the true inword meaning and significance of the “Deliverance Day”.

It is true that many non-Congress Hindus expressed their empathy with the Deliverance Day in Justice to our cause, so also the leaders of the justice party and the Scheduled Castes, and the Parsis who had suffered. But I am afraid that the meaning which you have tried to give to this alignment shows that you have not appreciated the true significance of it. It was partly a case of “adversity bringing strange bed-fellows together”, and partly because common interest may lead Muslims and minorities to combine. I have no illusions in the matter, and let me say again that India is not a nation, nor a country. It is a sub-continent composed of nationalities, Hindus and Muslims being the two major nations. To-day you deny that religion can be a main factor in determining a nation, but you yourself, when asked what your motive in life was, “the thing that leads us to do what we do”, whether it was religious, or social or political, said:- “Purely religious”. This was the question asked by the late Mr. Montagu when I accompanied a deputation which was purely political.
“How you, a social reformer, he exclaimed, have found your way into this crowd?
Your reply was that it was only an extension of my social activity. I could not be leading religious life unless I identified myself with the whole of mankind, and that i could not do unless I took part in politics. The gamut of man’s activities today constitutes an indivisible whole. You cannot divide social, economic, political, and purely religious work into waterlight comoartments. I do not know any religion apart from human activity. It provides a moral basis to all other activities which they would otherwise lack, reduce life to a maze of ‘sound and fury signifying nothing.”

More than anyone else you happen to be them man today who commands the confidence of Hindu India and are in a position to the goods on their behalf. Is it too much to hope and expect that you might play your legitimate role and abandon your chase after a mirage? Events are moving fast, a caompaign of polemios, or your weekly discourse in the Harijan on metaphysics, philosophy, and ethics, or your peculiar doctrines regarding khaddar, ahimas and spinning are not going to win India’s freedom. Action and statesmanship alone will help us in our foreward march. I believe that you might still rise to your stature in the service of our country and make your proper contribution towards lending India to contentment and happiness.

Lastly, I thank you for anxiety to respect my wishes in the matter of the prefix you should use with my name. What is in a prefix after all, a rose called by any other smells just as sweet. So I leave the matter entirely to you, and have no particular wish in the matter. I really do not know why you are sorried so much about it. I, however, notice that the present prefix you are using is according to the usage taught to you by the late Hakim Sahib. But surprisingly enough during his lifetime and till long after his death, you addressed me as “Shree”, and in between as “friend”, but please do not bother about this matter.

Yours sincerely
[M. A. Jinnah]

M. K. Gandhi Esq.,
Segaon.

[Picture: M. K. Gandhi leaving home of Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah enroute to Viceroy’s lodge in Delhi. November 24, 1939]

orignal Letter of Jinnah to Gandhi

احمد الیاس

احمد الیاس

احمد الیاس سائیں لاھور دے رہائشی ہن۔ انہاں دے مضامین دا تعلق تاریخ اسلامی ، اسلامی دنیا دی سیاست ، پاکستانی معاشرے ، سماجی مسائل نال ہے

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
error: Content is protected !!