نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں

سب تو زیادہ پڑھی ڳئ

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔ تلے آلا بٹن دباو

ترقی یا جنگی جنون ؟ کثیر جہتی عوامل تحریر احمد الیاس

یہ تحریر مختلف زبانوں میں پڑھیں۔

ہمارے یہاں لاہور کے سرکاری تعلیمی اداروں مثلاً جامعہ پنجاب اور جی سی وغیرہ کے سوشل سائنسز سے متعلقہ شعبوں میں پسماندہ اضلاع سے بھی کافی بچے آتے ہیں۔ ان طلباء نے محنت تو کی ہوتی ہے تبھی میرٹ پر ان اداروں میں ان کا داخلہ ہوجاتا ہے مگر ان کی ذہنی و فکری بنیاد ظاہر ہے نہیں بنی ہوتی۔ نصابی کتابوں کے سوا کبھی کچھ پڑھا ہی نہیں ہوتا اور نفسیاتی طور پر بھی خوداعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔
یونیورسٹی آکر جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کی قصباتی زندگی اور نصابی کتب سے آگے بھی دنیا بستی ہے تو ان کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ ایک ڈیڑھ کتابیں پڑھ کر اور دو اڑھائی دانشورں کو سن کر ہی وہ ہر اس چیز کے خلاف ہوجاتے ہیں جو آج تک انہیں بتائی گئی، پڑھائی گئی، سکھائی گئی۔

اگرچہ پہلے سے سیکھی، پڑھی اور بتائی ہوئی کئی چیزوں کو بھولنا اور تنقیدی سوچ کا اختیار کرنا بے پناہ اہمیت کا حامل ہے لیکن ظاہر ہے کہ چونکہ تنقیدی سوچ اور تجزیے کی مہارت ہی ان طلباء میں نہیں ہوتی لہذا یہ اپنے پرانے قصباتی اور نصابی تصورات کے بالکل متضاد اور آسانی سے دستیاب متبادلات کو بغیر کسی تنقیدی سوچ کے اختیار کرلیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آپ کو انتہاء پسندی کی حد تک باغیانہ خیالات میں اتھرے پن کی حد تک ڈوبے ہوئے دانشوروں کی اکثریت لاہور، گجرانوالہ، سیالکوٹ یا فیصل آباد جیسے قدرے خوشحال شہروں کے لوگوں کی نہیں بلکہ پسماندہ اضلاع اور دیہات و قصبات کا پس منظر رکھنے والے لوگوں کی ملے گی۔

 

یوں تو اس اتھرے پن کی کئی مثالیں ملتی ہیں لیکن آج میں ایک ایسے بیانیے کی بات کروں گا جو اس قسم کا نیا نیا دانشور چھوٹتے ہی پیش کردے گا۔ وہ یہ کہ اگر تقسیمِ ہند نہ ہوتی تو امریکہ، چین، روس، یورپ وغیرہ سب کی چھٹی ہوجاتی اور صرف متحد ہندوستان ہی دنیا کی معاشی طاقت ہوتا اور یہاں خوشحالی ہی خوشحالی ہوتی، ترقی ہی ترقی ہوتی۔
اب بات یہ ہے کہ بھارت کی آبادی ایک سو پچیس کروڑ ہے، پاکستان کی بائیس کروڑ اور بنگلادیش کی کوئی اٹھارہ کروڑ۔ یہ مل کر بنے ایک سو پینسٹھ کروڑ۔ ایک سو پچیس کروڑ نے کیا اکھاڑ لیا جو ایک سو پینسٹھ کروڑ اکھاڑ لیتے ؟
خیر، اب ذرا سنجیدگی سے معاملے کو دیکھ لیں۔ ترقی کا کیا مفہوم ہوتا ہے ؟ کیا ملک کا مجموعی جی ڈی پی بڑا ہونا ترقی ہے یا فی کس آمدنی ترقی کا اصل اشاریہ ہے ؟ کیا انسانی ترقی اصل ترقی ہے یا بہتر انفراسٹرکچر اور بڑی بڑی صنعتیں ہی اپنے آپ میں ترقی ہیں ؟
ڈنمارک، سویڈن، ناروے, آئرلینڈ، نیوزی لینڈ جیسے ملک بہت چھوٹے چھوٹے ہیں، پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ لاکھ افراد پر مشتمل۔ ان کا مجموعی جی ڈی پی دنیا کی بیس یا تیس بڑی معیشتوں میں نہیں آتا۔ لیکن یہاں انسانی ترقی، فی کس آمدنی اور فرد کی خوشحالی سب سے زیادہ ہے۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ مل کر بڑی طاقت بن جائیں گے لیکن کیا صرف ایسا کرنے سے ان کے فرد کی خوشحالی میں اضافہ ہوجائے گا ؟ جی نہیں۔ سکینڈینیوا کے ملک آپس میں مل جائیں یا کینیڈا امریکہ سے مل جائے تو بہت بڑی بڑی طاقتیں معرضِ وجود میں آجائیں گی لیکن کیا ان بڑی طاقتوں کے وجود میں آنے کا مطلب یہاں افراد کی زندگی خود بخود بہتر بن جانا ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ ریاست کا طاقت ہونا اور فرد کا خوشحال ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ ریاست کے طاقتور ہونے، وسیع ہونے یا اس کا جی ڈی پی بہت بڑا ہونے سے فرد کی خوشحالی اور انسانی ترقی کی ضمانت نہیں مل جاتی
۔
ویسے مجموعی جی ڈی پی (بلحاظ قوت خرید) کے اعتبار سے بھی متحد ہند (بھارت، پاکستان، بنگلادیش) کا جی ڈی پی صرف چودہ ہزار ارب ڈالر کے لگ بھگ ہی بنتا ہے جو چین کے چوبیس ہزار ارب ڈالر سے کہیں کم ہے۔
اس حوالے سے جو دلیل اکثر دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر تقسیم نہ ہوتی تو اسلحے کی دوڑ نہ ہوتی، فوجیں نہ ہوتیں، دفاعی اخراجات پر پیسہ نہ اٹھتا وغیرہ وغیرہ۔ اوّل تو تقسیم کا جنگی جنون سے کوئی تعلق نہیں، ہمارے ہاں پائے جانے والے جنگی جنون کا تعلق مسئلہ کشمیر اور دونوں قوموں میں موجود عدم اعتماد سے ہے۔ یہ عدم اعتماد تقسیم کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا بلکہ تقسیم اس عدم اعتماد کی وجہ سے ہوئی تھی۔
کشمیر جیسے مسائل نے اس عدم اعتماد کو طوالت بخشی ہے۔ وگرنہ آئرلینڈ برطانیہ سے الگ ہوا تھا، ان دونوں ملکوں میں تو کوئی عدم اعتماد ہے نہ جنگی جنون۔
بہرحال، اگر یہ جنگی جنون نہ بھی ہوتا تو کیا متحد ہندوستان کو اپنے دفاع پر کچھ خرچ نہ کرنا پڑتا ؟ یا کم خرچ کرنا پڑتا ؟ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں تو آپ واقعی بہت سادہ ہیں۔ متحد ہند کا مقابلہ براہ راست چین سے ہوتا اور متحدہ ہند بڑا ملک ہونے کے ناطے زیادہ assertive انداز میں چین سے رقابت قائم کرتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آزادیِ ہند کے پندرہ سال بعد ہی بھارت اور چین کی جنگ ہوگئی کیونکہ یہ فطری تھا۔ دونوں ملک ایشیاء کی قیادت کے دعوے دار ہیں۔ اب تک ان دونوں کا تنازعہ مکمل گرمی اختیار نہیں کرسکا کیونکہ بھارت منقسم اور پاکستان کے ساتھ اینگیج ہونے کے سبب چین سے کھل کر ٹکر نہیں لی سکتا۔ متحد ہندوستان اور چین کی دشمنی پاک بھارت دشمنی سے بھی گہری ہونا لازم تھا اور اس صورت میں اسلحے کی دوڑ اور اس پر اٹھنے والا اس خطے کے عوام کا پیسہ آج سے کم نہیں، بلکہ غالباً زیادہ ہی ہوتا۔
پھر یہ کہ یہ ماننے کے لیے بھی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ مسلم اکثریتی صوبوں کا حال مسلسل کشمیر جیسا نہ رہتا۔ جب متحد ہند ایک مسلم اکثریتی ریاست کو راضی نہیں کرسکا اور اسے اپنے ساتھ رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تو چھ مسلم اکثریتی صوبے قابو میں رکھنے اور خانہ جنگیاں لڑنے کے لیے تو اسے کیا کیا کرنا پڑتا ؟
لہذا اس خرافات کو ذہن سے نکال دیں کہ پاکستان اور بنگلادیش کوئی بہت بڑے امیر ملک ہیں جن کے بھارت میں ملنے سے معلوم نہیں کونسی طاقت ظہور پذیر ہوجاتی۔ یہ بھی بھول جائیں کہ بڑے ملک اور بڑی طاقت اور بڑی معیشت کا مطلب خوشحال اور ترقی یافتہ فرد ہوتا ہے۔ اس خرافات کو بھی ذہن سے نکال دیں کہ خطے میں جنگی جنون تقسیم کے سبب ہے یا تقسیم نہ ہوتی تو اسلحے کی دوڑ نہ ہوتی۔
تقسیم بہرحال ناگزیر نہیں تھی، کانگرس کی ضد پر پنجاب اور بنگال کی تقسیم تو بہت بڑا المیہ تھا، اگر جداگانہ انتخاب اور صوبائی خودمختاری کو کانگرس تسلیم کرلیتی تو متحد ہند کی تقسیم بھی رک سکتی تھی لیکن بہرحال یہ حقیقیت بھی اپنی جگہہ ہے کہ تقسیم نہ ہوتی تو بھی تینوں ملکوں میں عام آدمی کے یہی شب و روز ہوتے، بلکہ غالباً اس سے بھی بدتر۔
– احمد الیاس

احمد الیاس

احمد الیاس سائیں لاھور دے رہائشی ہن۔ انہاں دے مضامین دا تعلق تاریخ اسلامی ، اسلامی دنیا دی سیاست ، پاکستانی معاشرے ، سماجی مسائل نال ہے

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو

ہیندے نال دیاں بیاں لکھتاں ݙیکھو

نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں
Free counters!