نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں

سب تو زیادہ پڑھی ڳئ

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔ تلے آلا بٹن دباو

کیا ازم کا ٹھپہ لازم ہے ؟ احمد الیاس

یہ تحریر مختلف زبانوں میں پڑھیں۔

راسخ العقیدہ مسلمان ہوں لیکن “اسلام ازم” کی کسی تحریک سے وابستہ نہیں ہوں۔
محنت کشوں کے حقوق اور سوشل جسٹس کا پکا حامی ہوں لیکن “سوشل ازم” کا قائل کبھی نہیں ہوسکا۔

اپنے وطن، خاندان، مادری زبان اور ثقافت سے محبت ہے لیکن “نیشنل ازم” سے شدید بیزاری۔
شخصی لبرٹی کا حق سب کے لیے دل و جان سے تسلیم کرتا ہوں لیکن “لبرل ازم” کے پرچم اٹھائے نہیں پھرتا۔
خواتین کے مساوی حقوق اور ایمپارمنٹ کا وکیل ہوں لیکن “فیمنزم “کا ٹیگ لگائے نہیں پھر سکتا۔
ہم میں سے اکثر لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں کیونکہ ہم مکمل اور متوازن انسان بننا چاہتے ہیں ۔۔
۔۔ کسری شخصیت کے حامل اور کسی ایک جانب حد سے زیادہ جھکے ہوئے لوگ نہیں۔ ہم اپنی سیاست کی بنیاد سیدھے سادے یونیورسل انسانی اصولوں کو بنانا چاہتے ہیں، انسانوں کو بانٹنے والے نظریات اور شناختوں کو نہیں۔ لیکن یہ تحت الشعوری کومن سینس صرف ہم عام لوگوں میں ہی ہوتی ہے۔ فکری اشرافیہ ہمیشہ اس کومن سینس سے محروم ہی پائی گئی ہے۔
– احمد الیاس

احمد الیاس

احمد الیاس سائیں لاھور دے رہائشی ہن۔ انہاں دے مضامین دا تعلق تاریخ اسلامی ، اسلامی دنیا دی سیاست ، پاکستانی معاشرے ، سماجی مسائل نال ہے

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو

ہیندے نال دیاں بیاں لکھتاں ݙیکھو

نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں
Free counters!