اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

سکھ مت یا سکھ ازم کیا ہے ؟ احمد الیاس

ہودیت تو ایک انتہائی قدیمی ابراہیمی دین ہے اور اسلام اور یہودیت کے درمیان بہت سی مقدس شخصیات مشترک ہیں۔ لہٰذا ان دونوں میں مماثلت تو ایک فطری بات ہے۔ لیکن ایک اور مذہب ایسا ہے جو اسلام سے بہت مماثل ہے۔ یہ مذہب بہت پرانا نہیں ہے بلکہ بمشکل پانچ سو سال کا ہے۔ اور یہ مذہب ابراہیمی بھی نہیں ہے بلکہ مذاہب کے ہندوستانی خاندان میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن اسلام، بالخصوص اسلامی تصوف نے اس پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

سکھ مذہب جسے اس کے ماننے والے سِکھی یا گرو مت بھی کہتے ہیں، گیارہ گُروؤں کی تعلیمات کا نام ہے۔ ان میں سے دس گُرو انسانی شکل میں تھے اور مغلوں کے عروج کے دور میں پنجاب کے اندر ہندوؤں اور مسلمانوں میں پہلے گُرو گُرو نانک کے خیالات کی ترویج کرتے رہے جبکہ گیارہویں گُرو ایک کتاب ہے جسے گرو گرنتھ صاحب کہتے ہیں۔ ۱۷۰۸ میں دسویں گُرو کی وفات سے ہمیشہ ہمیشہ تک کے لیے گُرو ہے۔

سکھ مذہب کے بانی گُرو نانک ایک سرکاری ملازم تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے ملازمین رشوت، فریب اور لالچ وغیرہ میں ملوث رہتے تھے جس سے گُرو نانک کو طبعی بیزاری تھی۔ گُرو اکثر انسان کی اخلاقی برائیوں اور کمزوریوں پر غور و فکر کرتے رہتے۔ وہ بچپن سے مسلمان صوفیاء اور ہندو جوگیوں کی باتیں سنتے آئے تھے جو اس دور میں پنجاب میں جا بجا پائے جاتے تھے۔ ایک روز وہ ایک تالاب میں نہا رہے تھے جب سکھ روایات کے مطابق وہ ایک روحانی تجربے سے گزرے اور تین دن بعد واپس آئے تو ان کی روح پوری طرح روشن ہوچکی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے سفر کرنا اور اپنی تعلیمات پھیلانا شروع کیا اور یہ عمل ان کے بعد بھی ایک کے بعد ایک آنے والے جانشین گُرو کرتے رہے۔ یہ گرو ہر مذہب اور قومیت کے لوگوں کو “سکھاتے” تھے جو “سکھ” کہلاتے تھے لیکن عملاً زیادہ تر پنجابی ہندوؤں کو انہوں نے متاثر کیا جو ہندو مذہب کے ذات پات کے نظام کو بھی قبول نہیں کرپائے تھے، اسلام کی توحید اور سماجی مساوات سے متاثر بھی ہوئے تھے لیکن کسی وجہ سے اسلام قبول نہیں کرنا چاہتے تھے یا نہیں کرسکتے تھے۔

سکھ مذہب کئی لحاظ سے ہندو مذہب اور اسلام کے اختلاط کا ثمر محسوس ہوتا ہے۔ اس کا تصور خدا تقریباً پوری طرح اسلام والا ہے۔ خدا ایک ہے، اس کی کوئی شکل، جنس یا اوتار نہیں ہے، وہ پوری کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور تمام مذاہب میں خدا کے تصور کی اصل وہی ہے۔ وہ ہر شئے کا خالق اور ہر شئے پر قادر ہے۔ اسے اِک اونکار کہتے ہیں۔ اسی کو عام بول چال میں واہے گُرو کہا جاتا ہے۔ واہے گرُو کی تصویر یا بت بنانا سختی سے منع ہے۔ دوسری طرف سکھ مذہب میں اسلام کی طرح جنت دوزخ کا تصور نہیں ہے بلکہ ہندو مذہب کی طرح تناسخ کا عقیدہ ہے۔ یعنی انسان موت کے بعد نیا جنم لیتا ہے اور ایک جنم میں اپنے عمل کے مطابق اگلے جنم میں بہتر یا بدتر زندگی پاتا ہے، یہ چکر چلتا رہتا ہے جب تک انسان کو مُکتی نہ مل جائے۔ حیات بعد الموت کا بالکل یہی تصور ہندوؤں میں ہے۔

گُرو نانک کے مطابق انسان کی مُکتی یعنی جنم جنم لوٹ کر اس دنیا میں آنے اور اک اونکار / واہے گرو سے نہ مل پانے کی وجہ مایا ہے۔ مایا ایک دھوکہ ہے۔ یہ انسان اور خدا کے درمیان ایک دیوار ہے جو پانچ برائیوں کے سبب اونچی ہوتی چلی جاتی ہے : ہوس، غصہ، لالچ، گھمنڈ اور دنیا کی محبت۔ ان پانچ برائیوں کو پانچ چوروں کا نام دیا گیا ہے اور سکھ مذہب کا سارا اخلاقی نظام ان پانچ برائیوں سے نجات کے گرد گھومتا ہے۔

ان پانچ چوروں سے نجات پاکر مایا سے آزاد ہونے اور خدا کے وصل کا جو طریقہ گروؤں نے بتایا اس کے تین ستون ہیں :

۱۔ نام جپو ۔۔۔ یعنی خدا کا ذکر کرنا۔ یہ صبح سویرے اٹھ کر اور رات سونے سے پہلے خدا کو یاد کرنے کا نام ہے۔

۲۔ کیرت کرو ۔۔۔ یعنی محنت کرو اور رزقِ حلال کماؤ۔ رزق حلال وہ ہے جس کے کمانے میں کسی کا حق مارا جائے نا کسی کو تکلیف دی جائے۔ رہبانیت یعنی کسب معاش کے لیے کوئی کام نہ کرنا اور بھیک مانگنا سختی سے منع ہے۔

۳۔ ونڈ چکھو ۔۔۔ یعنی مل بانٹ کر کھاؤ اور ضرورت مندوں کی مدد کرو خواہ وہ کوئی بھی ہو، سکھ یا غیر سکھ، پنجابی یا غیر پنجابی، مرد یا عورت، رشتے دار یا پرایا، غریب یا امیر، مسافر یا مقیم۔ اسی مقصد کے لیے ہر گردوارے میں لنگر بنایا جاتا ہے جو سکھ پیسے ملا کر چلاتے ہیں۔

یہ سکھ مذہب کے تین ستون ہیں۔ ان کے علاوہ سیوا یعنی خدمت کا بھی تصور ہے۔ جس کا سب سے بڑا مظہر سکھوں کی جانب سے گردواروں میں رضا کارانہ خدمت ہے۔ اس خدمت میں زائرین کی جوتیاں سیدھی کرنے سے صفائی کرنے تک اور کھانا بنانے سے کھانا کھلانے تک سب شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے کوئی تنخواہ دار ملازم نہیں رکھے جاتے بلکہ سکھ کلاس یا سماجی مرتبے کا خیال کیے بغیر یہ سب کام خود کرتے ہیں تاکہ ان کا گھمنڈ ٹوٹے اور خدا کے حضور عاجزی پیدا ہو۔ یہ طریقہ صوفی خانقاہوں میں صدیوں سے چلا آرہا تھا جسے سکھ گروؤں نے پسند کیا اور اپنا لیا۔

گرودوارا دراصل گُرو کی بارگاہ ہے۔ اس میں گُرو گرنتھ صاحب رکھی ہوتی ہے جس کو وقتاً فوقتاً پڑھا جاتا ہے۔ سامنے ایک جانب مرد اور ایک جانب عورتیں بیٹھتی ہیں۔ لنگر کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔

یوں تو دنیا میں بے شمار گردوارے ہیں لیکن ان میں پانچ کو خصوصی تقدیس حاصل ہے جیسا کہ اسلام میں مسجد الحرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ کو۔ ان پانچ میں ایک مہاراشٹرا، ایک بہار اور تین (دمدمہ صاحب، آنند پور صاحب اور ہرمیندر صاحب) بھارتی پنجاب میں ہیں۔ ہرمیندر صاحب سب سے مقدس مقام ہے۔ اسے گولڈن ٹیمپل بھی کہتے ہیں لیکن گولڈن یہ ۱۸۳۰ میں ایک بادشاہ رنجیت سنگھ نے کروایا تھا۔ جبکہ اسے تعمیر پانچویں گُرو نے سترہویں صدی کے اوائل یعنی شہنشاہ اکبر کے دور میں کیا۔ اس کی سنگِ بنیاد رکھنے کے لیے لاہور کے فاروقی النسب اور قادری الطریقہ صوفی بزرگ میاں میر کو دعوت دی گئی۔ میاں میر سرکار بادشاہوں کی دعوت پر بھی لاہور نہیں چھوڑتے تھے لیکن نوجوان گُرو کی دلجوئی کے لیے امرتسر گئے اور سنگِ بنیاد رکھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پنجابی مسلم تصوف کے ابتدائی دو صدیوں میں سکھ مذہب پر کتنے گہرے اثرات تھے۔

مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان خلیج پیدا ہونا تب شروع ہوئی جب مغل بادشاہوں نے گروؤں کو سیاسی خطرہ سمجھنا شروع کردیا اور قید و بند کی صعوبتیں دینی شروع کیں۔ پانچویں گُرو گُرو ارجن اور نویں گُرو گُرو تیغ بہادر کو مغلوں نے قتل کردیا۔ اگرچہ مسلم صوفیاء گروؤں اور ان کے پیروکاروں کو پناہ بھی دیتے رہے لیکن بہرحال جب سکھ اپنی تاریخ بیان کرتے ہیں تو اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ پانچویں گُرو کو جہانگیر نے اور نویں گُرو کو اورنگزیب نے قتل کیا اور دونوں مسلمان تھے۔

اورنگزیب کے دور میں ہی دسویں سکھ گُرو گوبند سنگھ نے فیصلہ کیا کہ سکھوں کو پیری مریدی کے سلسلے سے بڑھا کر ایک مستقل دین اور قوم کی شکل دی جائے۔ آنند پور صاحب میں سکھوں کے ایک اجتماع میں انہوں نے سکھوں سے ایک کے بعد ایک پانچ لوگوں کو مانگا جو اپنی جان کی قربانی دینے پر تیار ہوں۔ گُرو ان کو خیمے میں لے جاتے اور خون میں ڈوبی تلوار کے ساتھ واپس آتے اور تلوار دھو کر ایک اور قربانی مانگتے۔ یوں جب پانچ جانثار خیمے میں جاچکے تو گُرو ان پانچوں کو پگڑی پہنا کر باہر لے آئے اور ان پانچوں کی جماعت کو خالصہ کا نام دیا۔پانچوں کو ایک ہی پیالے سے امرت پلایا گیا حالانکہ یہ پانچوں مختلف ذاتوں اور سماجی درجات کے تھے اور اس وقت مختلف درجات کی ذاتوں کے ہندو ایک ہی برتن سے پانی نہیں پیتے تھے۔ ان پانچوں کے ناموں کے آگے لگے ان کی ذات اور خاندان کے نام ہٹا کر سنگھ لگا دیا گیا جس کا مطلب شیر ہے۔ یوں سکھوں کی ایک باقاعدہ الگ جماعت وجود میں آئی جس میں کوئی ذات پات اور سکھی کے علاوہ کوئی اور مذہبی شناخت بھی نہیں تھی۔ ان “پانچ پیاروں” کے بعد تمام سکھ مرد سنگھ اور سکھ عورتیں “کور” (شہزادی) کا لاحقہ لگا کر خالصہ میں شامل ہوگئیں۔

خالصہ کو اپنی علیحدہ شناخت بنائے رکھنے کے لیے پانچ نشان عطاء کیے گئے۔

۱۔ کیس ۔۔۔ جسم کے کسی حصے سے بالوں کا نا کاٹنا
۲۔ کنگھا ۔۔۔ ہر وقت سر کے بالوں میں لگائے رکھنے کے لیے
۳۔ کرپان ۔۔۔ دفاع کے لیے ہر وقت ایک تلوار یا چاقو پاس رکھنا
۴۔ کچھا ۔۔۔ ایک خاص انڈروئیر جو جنسی ضبط اور حیاء کا احساس دلاتا رہے
۵۔ کڑا ۔۔۔ بازو میں پہننے اور بطور سکھ ذمہ داریوں کی یاد دہانی کے لیے

داڑھی کے علاوہ سکھوں کی سب سے مشہور علامت تربان دراصل ان پانچوں میں شامل نہیں بلکہ کبھی نہ کٹوائے جانے والے سر کے بالوں کو سنبھال کر رکھنے کے لیے سکھوں کی ضرورت ہے۔

خالصہ کے قیام اور ان پانچ علامتوں کو رائج کرکہ اورنگزیب کی وفات کے ایک سال بعد ۱۷۰۸ میں دسویں گُرو بھی دنیا سے چلے گئے اور ان کا جانشین کوئی انسان نہیں بلکہ ایک کتاب گرنتھ صاحب تھی جس میں مختلف گُرو اضافے کرتے رہے تھے اور صرف گروؤں کی نہیں بلکہ پنجاب کے سب سے عظیم مسلم صوفی فرید الدین گنج شکر اور کچھ ہندو جوگیوں کا کلام بھی اس میں شامل ہے۔ یہ کلام قدیم کلاسیکی پنجابی میں ہے۔ جس کو سمجھنے کے لیے زیادہ تر پنجابیوں کو بھی جدید پنجابی یا کسی اور زبان میں ترجمے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرو گوبند سنگھ کی وفات اور گُرو گرنتھ کے گرو بنتے ہی سکھ مذہب کا تشکیلی دور ختم ہوا اور اسے ٹھوس اور مستقل شکل مل گئی۔

اگرچہ سکھوں کے پانچوں مقدس ترین مقام بھارت میں ہیں لیکن پاکستان سے سکھ مذہب کی خاص نسبت پہلے اور سب سے عظیم گُرو گُرو نانک کے وسیلے سے ہے جو موجودہ ننکانہ صاحب کے علاقے میں پیدا ہوئے اور کرتارپور صاحب میں جن کی وفات ہوئی۔ لہذا ننکانہ اور کرتار پور بھی اس نسبت سے سکھوں کو بہت عزیز ہیں۔ لاہور انیسویں صدی کے نصف اوّل میں سکھوں کی حکومت کا مرکز رہا لہذا یہاں، نیز ان کے سب سے شاندار بادشاہ رنجیت سنگھ کی جائے پیدائش گجرانوالہ اور گرد و نواح میں ان کا ثقافتی و تاریخی ورثہ موجود ہے۔ لاہور میں بادشاہی مسجد کی بغل میں رنجیت سنگھ کی سمادھی اور اس سے منسلک گردوارا ڈیرہ صاحب کی یہ اہمیت بھی ہے کہ یہیں جہانگیر کے عہد میں پانچویں سکھ گُرو کو سزائے موت دی گئی جس کی حیثئیت سکھ ذہن میں کچھ ایسی ہی ہے جیسی مسلم ذہن میں شہادتِ امام حسین کی۔

سکھوں کے حوالے سے ایک عام مغالطہ ہے کہ سکھ صرف پنجابیوں میں ہوتے ہیں۔ اگرچہ عملاً ان کی کثیر اکثریت پنجابی ہے لیکن سکھ مذہب میں پنجابی اور غیر پنجابی کآ کوئی فرق نہیں اور دونوں بالکل یکساں اور برابر ہیں۔ اور پنجابیوں کے علاوہ دیگر قومیتوں میں بھی سکھوں کی بہت چھوٹی چھوٹی برادریاں موجود ہیں۔ پاکستان کے زیادہ تر سکھ سندھ یا خیبر پختونخواہ کے ہیں کیونکہ پنجابی سکھ تقریباً سب کے سب ۱۹۴۷ میں بھارت چلے گئے تھے۔

اسیّ کی دہائی میں خالصتان تحریک کے ردعمل میں بھارتی حکومت نے بڑے پیمانے پر بھارتی پنجاب میں خون خرابہ کیا۔ بھارتی فوجیں آپریشن بلیو سٹار میں جوتوں سمیت ہرمیندر صاحب (گولڈن ٹیمپل) میں داخل ہوئیں اور گولیاں چلائیں۔ نتیجتہً اندرا گاندھی کو دو سکھ گارڈز نے قتل کیا اور ردعمل میں سکھوں کا قتل عام شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ کئی سال چلتا رہا۔ حالات اتنے خراب تھے کہ وفاقی انتخابات میں بھارتی پنجاب ووٹ تک نہیں کرسکا۔ بے روزگاری بہت بڑھ گئی۔ سکھ مذہب میں نشہ تو دور، سگریٹ کی بھی اجازت نہیں لیکن بھارتی حکومت نے سکھ نوجوانوں میں نشے کو عام کردیا جو آج تک بھارتی پنجاب کا ایک مسئلہ ہے۔ اس سب سے تنگ آکر کئی سکھوں نے مغربی ممالک جانا شروع کردیا۔

آج کینیڈا اور بھارت میں سکھوں کا تناسب یکساں (تقریباً دو فیصد) ہے۔ برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں بھی بکثرت سکھ ملتے ہیں۔ یہ لوگ جہاں بھی ہوں، عموماً بہت پڑھے لکھے مگر روایت کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کی داڑھی، تربان اور نین نقش کی وجہ سے مغرب میں کئی لوگ انہیں مسلمان سمجھتے ہیں اور اسلاموفوبیا کا نشانہ ان کو بھی بننا پڑتا ہے۔ تاہم فلاحی شعبے میں اور دیگر شعبوں مثلاً کلچر اور تعلیم وغیرہ میں بھی سکھوں نے کافی نام بنایا ہے۔

– احمد الیاس

احمد الیاس

احمد الیاس

احمد الیاس سائیں لاھور دے رہائشی ہن۔ انہاں دے مضامین دا تعلق تاریخ اسلامی ، اسلامی دنیا دی سیاست ، پاکستانی معاشرے ، سماجی مسائل نال ہے

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
Free counters!
Archives
اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

Free counters!
Archives
error: Content is protected !!