نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں

سب تو زیادہ پڑھی ڳئ

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔ تلے آلا بٹن دباو

پاکستان کا بھارت کے خلاف سلامی کونسل میں ڈوزئیر ۔ کشمیر پالیسی عمیر فاروق

یہ تحریر مختلف زبانوں میں پڑھیں۔

بھارتی ریاست کے پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوتوں پہ مبنی ایک ڈوزئیر سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے سفیروں کو پیش کرنے سے پاکستان کی آنے والے دنوں کی کشمیر پالیسی کے خدوخال تو واضح ہوگئے۔
یہ صاف نظر آرہا ہے کہ اب پاکستان کشمیر میں جہاد

ی گروپس کی کم از کم فی الحال امداد کرنے کی بجائے سفارتی چینلز کے ذریعے دباؤ ڈالنا شروع کرے گا۔
اس سے قبل کہ ہم اس پالیسی تبدیلی کی وجوہات اور ممکنہ نتائج کو زیربحث لائیں اس معاملہ سے وابستہ کچھ مزید خبروں پہ نظر ڈالنا ضروری ہے۔
اوّل یہ کہ مذکوہ ڈوزئیر عام الزامات اور کمزور ثبوتوں پہ مبنی نہیں بلکہ عدالتی معیار کے ثبوت ہائے پہ مبنی ہے جسکا انکار ممکن نہیں۔ اسی کے ساتھ پاکستان ان الزامات کے ساتھ فیٹف میں بھی جائے گا اور انڈیا کو بلیک
لسٹ کرانے کی کوشش کرے گا۔ یہاں پاکستان کو سنگاپور یونیورسٹی کے ایک حالیہ تحقیقی مقالہ کی مدد بھی موجود ہوگی جس میں ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح بھارت دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد کا گڑھ بن چکا ہے اور ان تنظیموں کو بھارتی ریاست کا تحفظ حاصل ہے۔
بحیثیت مجموعی پاکستان کی اس پالیسی تبدیلی کی وجہ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ سمجھ آتا ہے کہ پاکستان کی پرانی کشمیر پالیسی جو مجاہدین بھیجنے کی تھی وہ خالصتاً یک قطبی دنیا کے پس منظر میں تیار کی گئی تھی جس میں امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور تو تھا لیکن ورلڈآرڈر کے رولز آف گیم طے نہ ہوئے تھے چونکہ پاکستان کی براہ راست امریکہ یا سلامتی کونسل کی کسی ویٹو پاور سے کوئی مخالفت یا دشمنی نہ تھی تو سمجھا گیا کہ اس پالیسی میں کوئی بڑا نقص موجود نہیں اور واحد سپرپاور بھی اخلاقی طور پہ اسکی مخالفت اس لئے نہیں کرسکتی کہ نان سٹیٹ ایکٹرز یا غیرریاستی عناصر کی سرپرستی وہ بھی کرتی رہی ہے۔
لیکن نوے کی دہائی کے اواخر میں کھیل کچھ یوں بن رہی تھی کہ چونکہ پاکستان گوادر کی بندرگاہ امریکہ کو دینے پہ تیار نہ ہوا بلکہ اس بندرگاہ اور اس سے منسلک تجارتی راستوں کو چین کے ساتھ مل کر تیار کرنے کی طرف گیا اور دوسری طرف امریکہ سے مل کر چین کو گھیرنے سے انکار کیا تو امریکہ دن بدن پاکستان کو اپنا سٹریٹیجک مخالف تصور کرنے لگ گیا جبکہ انڈیا امریکہ کے ساتھ چین مخالف پالیسی کا حصہ دار بن گیا۔
ان حالات میں واحد سپرپاور کی مخالفت کے باعث پاکستان کے لئے اس پالیسی کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تو پسپائی اختیار کرنا پڑی تو اس کے ساتھ ہی بھارت کی طرف سے جوابی جارحانہ پالیسی کا آغاز ہوا لیکن
پاکستان کے برعکس بھارت سے ایک غلطی ہوئی ، بھارت کے حاضر سروس ملٹری آفیسر پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث پکڑے گئے۔ اسی طرح پاکستان نے ریاست کے ملوث ہونے کے فٹ پرنٹ کبھی نہ چھوڑے جبکہ بھارت اس احتیاط کا مظاہرہ نہ کرسکا۔ اس تمام عرصہ میں گو کہ پاکستان نے دفاعی رویہ اختیار کئے رکھا لیکن بھارتی ریاست کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ضرور جمع کرتا رہا۔
اب صورت حال میں یہ جوہری تبدیلی آچُکی ہے کہ اب دنیا یک قطبی نہیں رہی بلکہ دو قطبی ہوچکی ہے سو پاکستان بھی ان حالات میں نئی پالیسی کے ساتھ میدان میں اترا ہے جسکے لئے واضح طور پہ بھارت تیار نہ تھا۔
بھارت اس تمام عرصہ میں سافٹ پاور کا استعمال کرتا رہا جو میڈیا پروپیگنڈہ اور انفارمیشن وار پہ مبنی تھا۔ گوکہ پاکستان کے اندر علیحدگی پسند گروہوں کو پیدا کرنے اور دہشت گردی میں انکی سرپرستی کرنے کی ہارڈ پاور کے استعمال کی پالیسی بھی بھارت نے اپنائی رکھی لیکن وہ ناکام رہی جس کے باعث میڈیا وار میں بھارت کی کامیابی کوئی نتائج برآمد نہ کرسکی۔
اب پاکستانی جوابی پالیسی بہت مختلف ہے، سافٹ پاور میں اپنی کمزوری کا پاکستان نے حل یہ نکالا ہے کہ بھارتی ریاست کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے عدالتی معیار کے ثبوت اہم ممالک کے سفارت خانوں کو فراہم کرنے کے ساتھ یقیناً پاکستان انکو سلامتی کونسل اور دیگر فورمز فیٹف وغیرہ میں بھی اٹھائے گا اس میں میڈیا کی سافٹ پاور کے برعکس اخراجات بہت ہی کم آئیں گے لیکن نتائج تقریباً برابر ہی نکلیں گے بلکہ زیادہ بہتر۔
لیکن اس سافٹ پاور کے پیچھے جو ہارڈ پاور موجود ہے وہ پراکسی وار سے کہیں زیادہ مہلک ہے جو فل فلیج روایتی جنگ کی دھمکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کلاسیکل پالیسی ہے جو کھلے میدان کی جنگ سے پہلے
سفارتی سطح پہ میدان ہموار کرنے کی ہے۔ مجموعی طور پہ سٹریٹیجی میں پاکستان کو برتری حاصل رہی ہے۔ یک قطبی دنیا میں غیر روایتی کشمکش کے ماحول میں اگرچہ پاکستان کشمیر آزاد نہ کرا سکا لیکن بھارتی فوج کے ایک تہائی کو کامیابی کے ساتھ کشمیر میں اس طرح الجھائے رکھا کہ وہ پاکستان کے مقابلے میں دفاعی پوزیشن پہ رہا حتی کہ سپر پاور کی مدد اور اپنی عسکری طاقت کی مقداری برتری کے باوجود وہ پاکستان کے خلاف براہ راست حملہ آور نہ ہوسکا اور پراکسی وار نتیجہ خیز نہ ہو سکی۔
اب جب حالات بدل چکے ہیں تو پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ انڈیا کو روایتی جنگ کے میدان میں شکست دے سکے کیونکہ اس صورت میں چین پاکستان کے ساتھ شریک ہوگا جبکہ انڈیا اپنی پالیسی کے عروج کے دور میں بھی اس قابل نہ ہوسکا کہ امریکہ پاکستان کے خلاف آل آؤٹ میں اسکا ساتھ دیتا۔
یہ ہے وہ بدلا ہوا پس منظر جس میں پاکستان نے آہستگی لیکن مضبوطی کے ساتھ اپنی نئی کشمیر پالیسی کو متعارف کرایا ہے۔ مستقبل کی پیشینگوئی کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن دستیاب آپشنز اور زمینی حالات کو دیکھتے ایک محتاط اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دیکھنا ہے کہ کس کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
انڈیا کے پاس ایک آپشن موجود تھا کہ حالات کے بگڑنے سے قبل ہی اسکو بھانپ کر پاکستان اور چین سے مذاکرات کرتا تو محض سی پیک کی مخالفت ترک کرنے کی ہی پیشکش کرکے اس تنگنائے سے نکل جاتا لیکن وہ موقع اب جا چکا ہے چینی فوج گرم تیاری کے ساتھ اس کی شمالی سرحد پہ تیار کھڑی ہے۔
بالفرض عالمی طاقتیں پاکستان کی شکایت پہ چپ سادھتی ہیں تو پاکستان کو کشمیر میں کسی مداخلت کا اخلاقی جواز مل جاتا ہے۔ ہم کارگل کی مہم جوئی پہ بہت تنقید کرتے ہیں لیکن وہ ایک بولڈ سٹیپ تھا جو محض اس وجہ سے ناکام ہوا کہ عالمی طاقتوں نے اسکو غلط گردانا اور چین اس وقت کسی جنگ کے لئے تیار نہ تھا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں ۔ چین اب عسکری لحاظ سے نہ صرف کسی سپرپاور سے کم نہیں بلکہ اسکے اپنے مفاد کا تقاضا ہے کہ سی پیک کو کامیاب بنانے کے لئے انڈیا کو ڈاؤن سائز کرنے میں پاکستان کا ساتھ دے
اگر ان حالات میں سی پیک کا محفوظ بنانے کی خاطر انڈیا کو کشمیر میں مزید پیچھے دھکیلنے کے لئے پاکستان کارگل جیسا کوئی اقدام اب کرتا ہے تو انڈیا کے لئے پاکستان کو روکنا ناممکن کے قریب ہوگا۔
لیکن پسپائی مزید دھماکہ خیز ہوگی کیونکہ کشمیر پہلے ہی آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی لمحہ دھماکے سے پھٹنے کو تیار ہے۔ صورت حال تیزی سے کسی فیصلہ کن موڑ کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ انڈین پالیسی ساز کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ انکی دو بہت بڑی کمزوریاں رہی ہیں ایک تو صورت حال کو بھانپنے تجزیہ کرنے میں پاکستان کی نسبت بہت سست ثابت ہوئے ہیں انکو اصل صورت حال کی سمجھ دیر سے آتی ہے جبکہ تب تک حالات اگلا موڑ لینے کو تیار کھڑے ہوتے ہیں۔
اس پہ مزید یہ کہ فیصلہ کرنے کی بجائے ٹالتے رہتے ہیں جس سے وقت مزید انکے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ صورت حال کو کس طرح سمجھتے اور جانچتے ہیں اور کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ برصغیر عالمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔

 

 

عمیر فاروق

عمیر فاروق سائیں سپین دے اچ رہائشی ہن۔ پاکستان دی تاریخ ، سیاست ، عالمی تاریخ تے سیاست تے اتھارٹی سمجھے ویندن۔ انہاں دے مضامین اتھاں سرائیکی ترجمے اچ دستیاب ہوسن۔

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو

ہیندے نال دیاں بیاں لکھتاں ݙیکھو

نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں
Free counters!
error: Content is protected !!