نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں

سب تو زیادہ پڑھی ڳئ

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔ تلے آلا بٹن دباو

نظریات اور قومیت کا سراب ۔ احمد الیاس

یہ تحریر مختلف زبانوں میں پڑھیں۔

نظریات میرا پسندیدہ موضوع ہیں۔ یوں تو سوشل ازم، کیپیٹل ازم، اسلام ازم، سیکولر ازم، لبرل ازم اور کمیوینیٹیرین ازم سمیت ہر اہم ازم کی ٹھوس سسٹمیٹک شکل میں درجن درجن بھر نقص نکال سکتا ہوں مگر جس نظریے سے مجھے صحیح معنوں میں شدید بیزاری بلکہ نفرت ہے وہ نیشنلزم ہے۔
پہچان کی سیاست سے بڑی برائی اور پسماندگی میرے نزدیک کوئی نہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں قومی شناخت کےخلاف ہوں، قطعاً نہیں۔ یہ ایک فطری چیز ہے اور فطرت کی مخالفت بے وقوفی سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے۔مگر نیشنلزم صرف قومی شناخت کا نام نہیں بلکہ قومی شناخت کو سیاست اور ریاست کی بنیاد بنانے کا نام ہےاور یہی اس دور کی سب سے بڑی بت پرستی اور جہالت ہے۔ سیاست اور ریاست کی بنیاد صرف اور صرف اصول ہونے چاہیںں ناکہ پہچان۔
جب ایک مظلوم و محکوم قوم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہیں آزادی اور حقوق اس قوم کا فرد ہونے کی حیثئیت میں چاہییں تو وہ آزادی یا حقوق کے اصول سے وابستگی آختیار نہیں کرتی بلکہ صرف اپنی قومیت سے ہی وابستہ ہوتی ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہ قوم آزادی اور حقوق حاصل کرلیتی ہے تو اس کے دماغ میں لاشعوری طور پر یہ ہوتا ہے کہ چونکہ یہ آزادی اور حقوق اس قوم کی کمائی ہے لہذا دوسروں کو اس میں حصہ دینا لازم نہیں۔ یوں وہ مظلوم قوم آخر کار خود ظالم بن جاتی ہے۔ اس کی بے شمار مثالیں میں آپ کو گنوا سکتا ہوں۔
مثلاً
۱۔ یہودی دو ہزار سال مظلوم رہے۔ یہ ظلم ہولوکاسٹ میں انتہاء کو پہنچا۔ مگر ان کی تحریکِ نجات اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی یہودی پہچان کی بنیاد پر صیہونیت کی شکل میں اٹھی اور آج یہ صیہونیت عربوں پر ظلم کرکہ کیا گل کھلا رہی ہے، ہم جانتے ہیں۔ جس طرح صیہونیت کی مخالفت یہودیوں پر جرمن مظالم کی حمایت نہیں ہےاس طرح کسی قوم پرست جماعت یا تحریک کی مخالفت اس قوم پر ظلم کی حمایت قطعاً نہیں ہوتی۔
۲۔ تحریک پاکستان میں ایک دھارا مسلم قوم پرستی کا بھی تھا۔ میرے نزدیک آج پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں اسی دھارے کے سبب ہیں ۔ مسلم پہچان کی بجائے صرف اسلامی اصول یعنی مذہبی آزادی اور اقلیتوں کا تحفظ ہی پیش نظر ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔
۳۔ بنگالی پاکستان میں مظلوم لوگ تھے۔ مگر بنگلا دیش کے قیام کے بعد انہوں نے بہاریوں پر جو ظلم کیے وہ بھی قوم پرستی کے سبب تھے ۔ اگر وہ پہچان کی بجائے جمہوری حقوق کے اصول پر ہم سے الگ ہوئے ہوتے تو غالباً بہاریوں پر ستم نہ ہوتا۔
۴۔ ترک ، جرمن اور اطالوی انیسویں صدی میں یورپ کی نسبتاً پچھڑی ہوئی اور شکست کے احساس سے دوچار اقوام سمجھی جاتی تھیں، مگر ان قوموں نے اپنی کمزوری اور پسماندگی کا علاج کسی فکری یا روحانی تحریک سے کرنے کی بجائے قوم پرستی سے کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ترک نیشنلزم آرمینیائی نسل کشی اور عربوں پر مظالم کا سبب بنی، جرمن اور اطالوی قوم پرستیاں نازی ازم اور فاشزم کی شکل اختیار کرکہ ارد گرد موجود ہر کمزور قوم کے لیے ٰعذاب بن گئیں۔
۵۔ عرب لوگ ترک قوم پرستی کے ہاتھوں اور پھر یورپی کولونیل ازم اور صیہونیت کے ہاتھوں مظالم کا شکار ہوئے۔ مگر جب قوم پرستی سے اس کا سامنا کرنے کی کوشش کی گئی تو کہیں صدام حسین کردوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے مارتا نظر آیا اور کہیں مساوات کے پیغام کی جنم بھومی یعنی جزیرہ نمائے عرب میں ہی کفالہ جیسے بدترین نظام غیر عربوں کو پیستے نظر آئے۔’
ایسی درجنوں مثالیں میں گنوا سکتا ہوں۔ اس کے برعکس جب صرف اصول مد نطر رکھے جاتے ہیں تو کہیں امریکہ جیسی کامیابی کی داستان تمام دنیا سے آئے ، تمام قوموں کے لوگوں کو صرف ایک اصول یعنی شخصی ومعاشی آزادی کے تحت خوش آمدید کہتی نظر آتی تھی۔ تو کہیں لبنان کسی مفاد کے بغیر لاکھوں شامی مہاجرین کو اسلام اور مسیحیت کے اصولِ ہمدردی کے نام پر پناہ دیتا نظر آتا ہے ۔
اس کے برعکس جس جس ملک میں قوم پرستی مضبوط ہے وہاں مہاجرین کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں قوم پرستی کی حالیہ تحریکیں اور شامی مہاجرین کے ساتھ ان کا سلوک اس کا ثبوت ہیں۔ خود پاکستان جو شامی بحران سے قبل مہاجرین کی میزبانی میں دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا،
حالیہ قوم پرستی کی لہروں کے سبب افغان اور بنگالی مہاجروں کو تنگ کرتا نظر آیا اور اس کے پڑھے لکھے حلقے ان لوگوں کوشہریت نہ دینے، بلکہ ڈی پورٹ کرنے جیسے غیر انسانی افعال کی حمایت کرتے نطر آئے۔ یہ سب قوم پرستی ہی کے کارنامے ہیں۔ پاکستان میں چل رہی قوم پرستی کی تمام تحریکیں اگر کل کو اپنے اپنے علاقے آزاد کروالیں تو ان علاقوں میں رہنے والے دیگر قوموں کے لوگوں کے لیے زندگی عذاب ہوجائے گی۔
اگرچہ مہاجر اور بلوچ واقعی مظلوم تھے یا ہیں مگر مظلوموں کے قوم پرستی کے نام پر بدترین ظالم بننے کی بڑی واضح مثال کراچی میں ایم کیو ایم اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں بلوچ قوم پرستوں کے قبضے کے دوران ہم دیکھ چکے ہیں۔ میں پی ٹی ایم کے تمام مطالبات کا حامی ہوں مگر آپ کو لکھ کر دے سکتا ہوں کہ اگر آپ پی ٹی ایم کو صرف ایک سال کے لیے خیبر پی کے کا کنٹرول دے دیں تو اس صوبے کے سرائیکی اور ہزارہ وال جان بچا کربڑے بڑے قافلوں کی شکل میں پنجاب ہجرت کررہے ہوں گے
۔ لہذا تاریخ سے سبق سیکھیں، ہر مظلوم قوم کے ساتھ کھڑے ہوں، مگر اس کی قومیت کے نام پر نہیں، صرف اصولوں اور انسانیت کے نام پر۔
– احمد

احمد الیاس

احمد الیاس سائیں لاھور دے رہائشی ہن۔ انہاں دے مضامین دا تعلق تاریخ اسلامی ، اسلامی دنیا دی سیاست ، پاکستانی معاشرے ، سماجی مسائل نال ہے

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو

ہیندے نال دیاں بیاں لکھتاں ݙیکھو

نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں
Free counters!
error: Content is protected !!