نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں

سب تو زیادہ پڑھی ڳئ

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔ تلے آلا بٹن دباو

ہم جنس پرستی ! قدرتی میلان یا زنا بالرضا ۔ جائزہ احمد الیاس

یہ تحریر مختلف زبانوں میں پڑھیں۔

اکثر لوگوں میں کسی نہ کسی حد تک ہم جنس پرستی کے جراثیم پیدائشی طور پائے ہیں، کچھ میں کم اور کچھ میں زیادہ۔ زیادہ تر لوگ
سوشل کنڈیشننگ کی بنا پر ان کو بالکل دبا دیتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کچھ لوگوں کے بچپن کے حالات یا ماحول یا طرز زندگی یا پرورش یا کوئی حادثہ
انہیں اس طرف زیادہ مائل کردیتا ہے۔ یوں کئی لوگ ہوموسیکچوئیل بن جاتے ہیں یعنی صرف اپنی جنس کی طرف کشش محسوس کرنے والے اور کچھ بائی سیکچوئیل یعنی دونوں جنسوں کی طرف جنسی کشش محسوس کرنے والے۔
ہوموسیکچوئیل ہونا ایک چیز ہے اور ہم جنسوں کے ساتھ زنا کرنا الگ۔ کوئی کس کی طرف جنسی کشش محسوس کررہا ہے، یہ اس کے اختیار میں نہیں، لہٰذا حرام نہیں کہا جاسکتا۔ حرام اختیار سے کیے گئے اعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً زنا۔
ایک غیر مذہبی آدمی تو یقیناً اس معاملے کو مذہب کی روشنی میں نہیں دیکھے گا۔ لیکن مذہبی شخص فطری طور پر اسے مذہب کے نکتہ نظر سے دیکھنے کا مجاذ ہے۔
مذہبہی نکتہ نظر سے دنیا میں ہر حالت آزمائش ہے۔ دولت اور غربت، صحت مندی اور بیماری، شہرت اور گمنامی، مردانگی اور نسوانیت ۔
۔۔ ہر طریقہ آزمائش کا ہے کیونکہ یہ دنیا آزمائش کا ہی یہ بھی ایک طرح کی آزمائش ہے اللٰہ کی طرف سے۔
ہم جنس پرستانہ جذبات بھی ایک طرح کی آزمائش ہی ہیں۔ یہ جذبات گناہ نہیں ہیں کیونکہ ان پر اختیار نہیں۔ ان جذبات سے مغلوب ہوکر خلاف شرع کچھ کرجانا غلط ہے۔
بعض لوگ اسے بیماری سمجھ کر اس کے علاج یا تدارک کی بات بھی کرتے ہیں۔ کوئی حالت بیماری ہے یا نہیں،
اس کا تعین سائنس کا کام ہے۔ اور سائنس کے ماہرین بہرحال اب اسے بیماری تسلیم نہیں کرتے۔ یہ رویہ انسان میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور ہر معاشرے میں موجود رہا ہے۔
اس کا تدارک نہیں ہوسکتا۔ یہ جینز موروثی ہوتے ہیں۔
بچپن کے ماحول کو بھی ہر بچے کے لیے اس طرح سے انجینئیر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ سب ان جینز کو بالکل دبا سکیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے حادثات بھی کم تو ہوسکتے ہیں، لیکن شاید ختم نہیں ہوسکتے کیونکہ انسان قدرتی طور پر اپنے اندر ایک درندہ رکھتا ہے۔
اس کے تدارک / علاج کی باتیں کرنا یا اعمال کی بجائے لوگوں کو حرام ٹھہرانا یا یہ کہہ کر غیر متعلقہ بحث کرنا کہ اسے مذہبی حوالے سے دیکھنا ہی نہیں چاہیے
۔۔۔ یہ سب غلط طریقے ہیں۔ ہمیں مذہب پر اعتقاد رکھنے والے لوگوں میں اس حوالے سے مذہب اور سائنس کا درست تصور پیش کرنا چاہیے۔

احمد الیاس

احمد الیاس سائیں لاھور دے رہائشی ہن۔ انہاں دے مضامین دا تعلق تاریخ اسلامی ، اسلامی دنیا دی سیاست ، پاکستانی معاشرے ، سماجی مسائل نال ہے

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو

ہیندے نال دیاں بیاں لکھتاں ݙیکھو

نویاں کتاباں پڑھو

مہینہ وار تحریراں
Free counters!