bookmark_borderڈیرہ وال اور متھا پاڑ ٹیکس ۔ ایقان حیدرشیرازی

آج صبح میں بجلی کا بل دیکھ رہا تھا جس میں واپڈا کی اعلی خدمات کے سلسلے میں مختلف ٹیکس جو کنزومر پر لگائے جاتے ہیں اس کی تفصیل تھی۔ان ٹیکسوں کی تعداد صرف شدہ یونٹ کے علاوہ دس بنتی ہے جس کی تفصیل میں آپکو بتا دیتا ہوں۔ میٹر رینٹ۔ سروس رینٹ۔ انکم ٹیکس ۔ محصول بجلی ۔ایف سی سرچارج ۔ این جے سرچارج ۔جی ایس ٹی ۔ ٹیلیویژن فیس۔
اس کے علاوہ لیٹ پیمنٹ سرچارج ہے اور اس پر جی ایس ٹی علیحدہ ہے۔ خیر میری خوشی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب میں نے تاریخ کی کتابوں میں دیکھا کہ ڈیرہ والوں پر اس قسم کے ٹیکس تو دو سو سال پہلے سے لگائےجاتے تھے اور ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں واپڈا نے یہ مہربانی کی کہ ٹیکسوں کے نام انگریزی میں رکھ دیے۔ آپ حیران ہونگے کہ ہمارے آباو اجداد اور ڈیرہ کے باسی ایک نواب صاحب کی حکمرانی میں جو ٹیکس ادا کرتے تھے وہ مثالی تھے اور واپڈا والوں نے تاریخ پڑھ کر یہ خوبصورت ٹیکس لگائے جس کے لیے عوام تاریخ دہرانے پر واپڈا کے شکر گزار ہیں۔اب میں آپ کو ان تاریخی ٹیکسوں کی تفصیل بتاتا ہوں۔

پہلا ایک۔۔ پرنی ٹیکس تھا۔۔۔پرنی کے معنی یرقان کے ہیں جس سے آدمی کا خون خشک ہو کر رنگ زرد ہو جاتا ہے۔ نواب صاحب ہر سال اپنی مرضی کے مطابق ڈیرہ کی رعایا پر یہ پرنی
ٹیکس لگاتے جس کی کوئی مقدار مقرر نہیں تھی۔

دوسرا ٹیکس ۔۔۔کنجری ٹیکس تھا۔یہ ٹیکس غلہ کی ایک پتھ پیداوار ایک آنہ فی پتھ مقرر تھا جو نواب صاحب کی طوائف کو جاتا اور کنجری ٹیکس کہلاتا۔ آجکل مجھے پتہ نہیں چل سکا یہ کونسا ٹیکس کہلاتا ہو گا۔

تیسرا ۔۔جھجری ٹیکس تھا ۔ جس شخص کی شادی ہوتی اس سے دو روپے جھجری ٹیکس وصول کیا جاتا۔ جھجری نواب صاحب کی

صراحی کو کہتے تھے۔ پتہ نہیں اس صراحی میں اس ٹیکس سے کیا بھرا جاتا۔

 

چوتھا گھوڑا ٹیکس جو گاوں کا ہر گھوڑا رکھنے والا ادا کرتا۔

پانچواں ٹیکس۔پایہ غلہ تھا۔ ہندی میں پایہ ناحق بلا گلے پڑ جانے کو کہتے ہیں۔جب غلہ خراب ہوتا غریب محنت کشوں میں بانٹ کے یہ ٹیکس وصول کرتے۔ جو غریب نہ دے سکتا اس کے پاوں میں کاٹھ لگا دیتے جس سے چلنے پھرنے میں بہت تکلیف ہو تی۔ کئی کی جاییداد ضبط کی جاتی۔ کئی لوگ اس ٹیکس کے ڈر سے گھر چھوڑ جاتے تھے۔

چھٹا پٹکا ٹیکس تھا ۔جو شخص اچھا پٹکا باندھتا ایک روپے سے چار روپے تک ٹیکس دیتا تاکہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔

ساتواں ٹوپی ٹیکس تھا ۔صاف ستھری ٹوپی پر زیادہ اور میلی پر کم لگتا۔ ہندو عام طور پر کپڑے کی ٹوپی پہنتے اور ٹیکس والے کو آتے دیکھتے تو مٹی میں لتھیڑ کر میلا کر کے سر پر اوڑھ لیتے اور کم ٹیکس دیتے

۔آٹھواں ۔۔بُوھا ۔۔ٹیکس ہر دروازہ رکھنے والا آٹھ آنہ ماہوار دیتا ۔بہت کم لوگ حویلی کا دروازہ بناتے بس کوٹھا اور ہرطرف کھلا ڈلا ماحول سُنج بیاباں۔

نواں دکان ٹیکس جو ہر دکاندار سے وصول کیا جاتا۔

دسواں ٹیکس متھے پاڑ ٹیکس جو ہلاک کرنے والا مشھور تھا آجکل کے زمانے واپڈا لا محدود اختیار استعمال کرتے ہوئے جو جرمانہ لگا دیتا ہے اسے متھے پاڑ ٹیکس کہا جا سکتا ہے ۔ عدالتوں کے پاس جرمانہ لگانے کےمحدود اختیارات ہیں واپڈا کے پاس لا محدود ہیں اس طرح واپڈا کو تمام ملکی اداروں پر سبقت حاصل ہے۔

bookmark_borderقائد اعظم کا گاندھی کے نام خط ہندوستانی قوم کے نظریہ سے متعلق ۔ احمد الیاس

ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ،
مالابارہل، بمبئی۔
21 جنوری 1940.

پیارے گاندھی صاحب،

مجھے آپکا 16 جنوری کا تحریر کردہ خط اور ہریجن کو بھیجے گئے آپ کے مضمون کی پیشگی نقل موصول ہوگئی ہے۔ میں نہ صرف آپکی اس نوازش کے لیئے

Continue reading “قائد اعظم کا گاندھی کے نام خط ہندوستانی قوم کے نظریہ سے متعلق ۔ احمد الیاس”

bookmark_borderیہودیت کیا ہے ؟ احمد الیاس

گر آپ تقابلِ ادیان کے علماء اور طالب علموں سے سوال کریں کہ کون سا مذہب اسلام سے سب سے زیادہ مماثل اور کون سی ملت مسلمانوں سے سب سے بڑھ کر مشابہ ہے تو تقریباً سب یہودیت اور یہودیوں کا نام لیں گے۔

Continue reading “یہودیت کیا ہے ؟ احمد الیاس”

bookmark_borderقائدِ اعظم دا ملکہ برطانیہ نال حلفِ وفاداری ——– لالہ صحرائی

لوک آدھن جو قائد اعظم  نے آزادی ایلے جیہڑا حلف چاتا ہا اوندے اچ حکومت برطانیہ نال وفاداری دی ہایں  وی ہائ۔ جیہڑا ساݙے تے قائد کیتے  تے ساڈے کیتے شرم دی ڳالھ ہے ۔

انہاں سیانڑے اعتراض کرن آلاں کلوں منت ہے جو اگر ایہ اپنڑے کیتے شرم دی ڳالھ ہے تاں ہک واری کینی چار واری ہے کیوں جو قائد اعظم تاں چلو بھولے بھا ہن ، یا انگریز دے ایجنٹ ہن ، لیکن بعد آلے ترے گورنر جنرلز کو کیا مکانڑ ہائ جو آزادی دے  بعد ایݙے سالاں اوہو حلف چیندے رے ۔

یا  ڈھیڳ لوکیں کو تے اڄ پتہ لڳسی کہ ہک نہ بلکہ چار گورنر جنرل نے ایہ جرم کیتے ، یا ول سڄنڑ ڄانڑ کہ لکینن جو لوکیں کو معاملے دا

Continue reading “قائدِ اعظم دا ملکہ برطانیہ نال حلفِ وفاداری ——– لالہ صحرائی”

error: Content is protected !!