bookmark_borderکیا آپ جانتے ہیں کہ البانیہ کے قومی شاعر نعیم فراشری اپنی مادری زبان البانوی کے علاوہ فارسی زبان کے بھی شاعر تھے؟ حسان خان

کیا آپ جانتے ہیں کہ البانیہ کے قومی شاعر نعیم فراشری اپنی مادری زبان البانوی کے علاوہ فارسی زبان کے بھی شاعر تھے؟ اُن کی ایک فارسی نظم اردو ترجمے کے ساتھ پیشِ خدمت ہے:

 

  التماس ، اگر آپ مندرجہ ذیل نظم کا سرائیکی ، بلوچی ، سندھی ، پشتو ، براھوی ،  پنجابی  انگلش یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں ترجمہ لکھ دیں ہم اس ترجمہ کو اپکی زبان اور نام کے ساتھ اسی نظم میں اضافہ کر دیں گے شکریہ ۔

(بر تربتِ خواهر)
نزدِ گورت باز می‌آیم کنون
با دلِ بیمار و بیزار و زبون
از تو اینجا می‌نیابم یادگار
ای دریغا! جز بدین خاکِ مزار
لیک از هجر و فراقِ هشت سال
می‌شمارم این زیارت را وصال!
بعد از آن کز تو شدم مهجور و دور
گشته بودم دور نیز از خاکِ گور
می‌شناسی خواهرا! من کیستم؟
من ترا آخر برادر نیستم؟
چونکه از هجرت دلم گشتست زار
آمدم بهرِ تسلی بر مزار!
آه اگر لفظی ز تو بشنیدمی!
مر ترا گر بارِ دیگر دیدمی!
نیست آواه! رسم و راهی در جهان
در میانِ مردگان و زندگان!
اندرونم آتش است از اشتیاق
از غم و اندوه و اکدارِ فراق
پرِ جان از مرگ خواهم، تا پرم
تا بیایم نزدِ تو، ای خواهرم!
تا بیابم مر ترا اندر سما
در میانِ نور، نزدیکِ خدا
(نعیم فراشری)
۱۲۹۶ هجری

ترجمہ: (بہن کی قبر پر) میں بیمار، بیزار اور زبوں دل کے ساتھ اب دوبارہ تمہاری قبر کے پاس آ رہا ہوں۔۔۔ افسوس! اس خاکِ مزار کے سوا یہاں تمہاری کوئی یادگار نہیں پاتا۔۔۔ لیکن پھر بھی آٹھ سال کے ہجر و فراق کے بعد میں اس زیارت کو وصال کی طرح شمار کر رہا ہوں۔۔۔ تم سے جدا اور دور ہونے کے بعد میں تمہاری قبر کی خاک سے بھی دور ہو گیا تھا۔۔۔ اے بہن! پہچانتی ہو میں کون ہوں؟ آخر میں تمہارا بھائی نہیں ہوں؟ چونکہ تمہارے ہجر سے میرا دل بدحال ہو گیا ہے اس لیے تمہارے مزار پر تسلی کے لیے آیا ہوں۔۔۔ آہ اگر ایک لفظ تم سے سن پاتا! آہ اگر تمہیں ایک بار پھر دیکھ پاتا!۔۔۔ افسوس! اس جہاں میں مُردوں اور زندوں کے بیچ رسم و راہ نہیں ہوا کرتی۔۔۔ میرے اندر شوق، غم، اندوہ اور فراق کی تاریکی کے سبب آگ لگی ہوئی ہے۔۔۔ اے میری بہن! میں موت سے زندگی کے پر چاہتا ہوں، تاکہ اڑ کر تمہارے پاس آ سکوں، اور تمہیں آسمان میں خدا کے پاس اور نور کے درمیان دیکھ سکوں۔۔۔

یہ فارسی زبان کی عظمت کی دلیل ہے کہ صرف ایک صدی قبل تک بوسنیا سے لے کر بنگال تک کے اہلِ علم شعراء اپنے احساسات اور خیالات کے اظہار کے لیے فارسی کو ذریعہ بناتے تھے۔ا

bookmark_borderحکمت آمیز باتیں-حصہ دوم ذوالفقار علی بخاری

 

ہم چھوٹے ہو کر اگر بڑوں کو کچھ سمجھاتے ہیں تو گستاخ کہلاتے ہیں اور اگر اپنے برابر کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو بھی ہمیں طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ہم جھوٹ بول کر دوسرے کو بے عزت تو کر سکتے ہیں مگر سچ سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی باتیں اکثر زندگی بدل دیتی ہیں اور وہی اکثر جینا دشوار بھی کر دیتی ہیں۔ لوگ کیا کہیں گے؟؟؟

کی بجائے ہمیں اس بات کی طرف غور و فکر کرنی چاہیے کہ لوگ کیا کر لیں گے؟؟؟؟ نکاح کا پیام دینا گناہ کیبرہ نہیں ہے مگر اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ اس بات پر مرنے مارنے پر تل آتے ہیں اور اس کو اپنی انا و غیرت کے ساتھ خاندان کی ناموس کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

Continue reading “حکمت آمیز باتیں-حصہ دوم ذوالفقار علی بخاری”

bookmark_borderحکمت آمیز باتیں-حصہ اول ذوالفقار علی بخاری

اخبارات کےمطالعے سے ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ ہمارے نام نہاد صحافی حضرات لوگوں کو بدنام کرنے میں اپنا کردار خوب ادا کررہے ہیں۔اکثر اخبارات کی خبروں میں اگر صرف جنسی زیادتی کی خبروں کو ہی دیکھ لیں تو انکے مکمل نام و پتے کے ساتھ خبریں شائع کی جاتی ہیں جیسے یہ اگر کچھ ادھوری ہوں تو شاید پڑھنے والوں کو مزہ نہ آئے۔

 

 

چھوٹی چھوٹی باتیں اکثر زندگی بدل دیتی ہیں اور وہی اکثر جینا دشوار بھی کر دیتی ہیں۔ پتا نہیں ہم لوگ خدا سے ذیادہ لوگوں سے کیوں ڈرنے لگ گئے ہیں، ہم اپنے اعمال سرانجام دیتے ہوئے یہ تو سوچتے ہیں کہ اگر ایسا کرلیا تو لوگ کیا کہیں گے،

ہم لوگوں کو ایسا کرلیا تو کیا منہ دکھائیں گے،ہم یہ بھی نہیں سوچتے ہیں کہ ہم آج کسی کے ساتھ غلط کر رہے ہیں تو رب کو جواب بھی دینا پڑے گا،مگر ہم بےحس ہو چکے ہیں، ہماری غیرت مرچکی ہے مگر ہم آج بھی کہتے ہیں کہ ہم غیرت مند ہیں، ہم اپنوں کا حق کھا لیتے ہیں مگر اللہ کے نام پر لاکھوں لوٹا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم سے بڑا کر کوئی سخی نہیں بے،

Continue reading “حکمت آمیز باتیں-حصہ اول ذوالفقار علی بخاری”

bookmark_borderسرکشی ۔۔۔۔ ذوالفقار علی بخاری

 

ہرنی اپنے بچوں کے ساتھ محفوظ مقام پر رہنے جا رہی تھی۔اُس نے سنا تھا کہ شیرکے منہ کو جو خون لگا ہے اُس کے بعد یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔دراصل ہرنی کے کئی ننھے بچوں کا خون شیر نے پی لیا تھا۔اب اُس کے شب و روز اسی شکار کے ساتھ گذر رہے تھے، بھوک مٹ رہی تھی مگر جنگل کی فضا خاموش تھی۔

یہ حسن اتفاق تھا کہ ہرنی جس وقت اپنے بچوں کے ساتھ نکلی، اُسی وقت شیر پہاڑ کی چوٹی سے نیچے آ رہا تھا، اُسے کچھ سائے کہیں جاتے ہوئے نظر آئے تو اُس نے پیچھا کرنا مناسب سمجھا۔

پندرہ فٹ کے فاصلے سے یہ دیکھ کر شیر حیران ہو چکا تھا کہ یہ تو جنگل کی باغی ہرنی ہے۔ شیر کاسامنا کرنے سے ڈرتی تھی، اُس نے اپنے بچوں کو بھی آج تک محفوظ رکھا تھا۔

ہرنی کو خطرے کی بومحسوس ہوئی تو اُس نے بھاگنے کے لئے اپنے بچوں کو کہہ دیا، وہ سب ادھراُدھر بھاگ نکلے۔
مگر ہرنی کی آئی ہوئی تھی۔

شیر نے چند لمحوں میں اُس کو دبوچ لیا تھا،اب شیر کی جنگل میں حکمرانی ہے مگر ہرنی کے بچے اُ س حادثے کے جنگل لوٹ کر نہیں آئے، وہ جان گئے تھے جب تک بھوکے شیروں کو مارا نہیں جاتا تب تک وہ محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں۔سرکشی کو لگام دنیا ضروری ہوتا ہے تاکہ سکون قائم ہو سکے۔

bookmark_borderڈیرہ وال اور متھا پاڑ ٹیکس ۔ ایقان حیدرشیرازی

آج صبح میں بجلی کا بل دیکھ رہا تھا جس میں واپڈا کی اعلی خدمات کے سلسلے میں مختلف ٹیکس جو کنزومر پر لگائے جاتے ہیں اس کی تفصیل تھی۔ان ٹیکسوں کی تعداد صرف شدہ یونٹ کے علاوہ دس بنتی ہے جس کی تفصیل میں آپکو بتا دیتا ہوں۔ میٹر رینٹ۔ سروس رینٹ۔ انکم ٹیکس ۔ محصول بجلی ۔ایف سی سرچارج ۔ این جے سرچارج ۔جی ایس ٹی ۔ ٹیلیویژن فیس۔
اس کے علاوہ لیٹ پیمنٹ سرچارج ہے اور اس پر جی ایس ٹی علیحدہ ہے۔ خیر میری خوشی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب میں نے تاریخ کی کتابوں میں دیکھا کہ ڈیرہ والوں پر اس قسم کے ٹیکس تو دو سو سال پہلے سے لگائےجاتے تھے اور ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں واپڈا نے یہ مہربانی کی کہ ٹیکسوں کے نام انگریزی میں رکھ دیے۔ آپ حیران ہونگے کہ ہمارے آباو اجداد اور ڈیرہ کے باسی ایک نواب صاحب کی حکمرانی میں جو ٹیکس ادا کرتے تھے وہ مثالی تھے اور واپڈا والوں نے تاریخ پڑھ کر یہ خوبصورت ٹیکس لگائے جس کے لیے عوام تاریخ دہرانے پر واپڈا کے شکر گزار ہیں۔اب میں آپ کو ان تاریخی ٹیکسوں کی تفصیل بتاتا ہوں۔

پہلا ایک۔۔ پرنی ٹیکس تھا۔۔۔پرنی کے معنی یرقان کے ہیں جس سے آدمی کا خون خشک ہو کر رنگ زرد ہو جاتا ہے۔ نواب صاحب ہر سال اپنی مرضی کے مطابق ڈیرہ کی رعایا پر یہ پرنی
ٹیکس لگاتے جس کی کوئی مقدار مقرر نہیں تھی۔

دوسرا ٹیکس ۔۔۔کنجری ٹیکس تھا۔یہ ٹیکس غلہ کی ایک پتھ پیداوار ایک آنہ فی پتھ مقرر تھا جو نواب صاحب کی طوائف کو جاتا اور کنجری ٹیکس کہلاتا۔ آجکل مجھے پتہ نہیں چل سکا یہ کونسا ٹیکس کہلاتا ہو گا۔

تیسرا ۔۔جھجری ٹیکس تھا ۔ جس شخص کی شادی ہوتی اس سے دو روپے جھجری ٹیکس وصول کیا جاتا۔ جھجری نواب صاحب کی

صراحی کو کہتے تھے۔ پتہ نہیں اس صراحی میں اس ٹیکس سے کیا بھرا جاتا۔

 

چوتھا گھوڑا ٹیکس جو گاوں کا ہر گھوڑا رکھنے والا ادا کرتا۔

پانچواں ٹیکس۔پایہ غلہ تھا۔ ہندی میں پایہ ناحق بلا گلے پڑ جانے کو کہتے ہیں۔جب غلہ خراب ہوتا غریب محنت کشوں میں بانٹ کے یہ ٹیکس وصول کرتے۔ جو غریب نہ دے سکتا اس کے پاوں میں کاٹھ لگا دیتے جس سے چلنے پھرنے میں بہت تکلیف ہو تی۔ کئی کی جاییداد ضبط کی جاتی۔ کئی لوگ اس ٹیکس کے ڈر سے گھر چھوڑ جاتے تھے۔

چھٹا پٹکا ٹیکس تھا ۔جو شخص اچھا پٹکا باندھتا ایک روپے سے چار روپے تک ٹیکس دیتا تاکہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔

ساتواں ٹوپی ٹیکس تھا ۔صاف ستھری ٹوپی پر زیادہ اور میلی پر کم لگتا۔ ہندو عام طور پر کپڑے کی ٹوپی پہنتے اور ٹیکس والے کو آتے دیکھتے تو مٹی میں لتھیڑ کر میلا کر کے سر پر اوڑھ لیتے اور کم ٹیکس دیتے

۔آٹھواں ۔۔بُوھا ۔۔ٹیکس ہر دروازہ رکھنے والا آٹھ آنہ ماہوار دیتا ۔بہت کم لوگ حویلی کا دروازہ بناتے بس کوٹھا اور ہرطرف کھلا ڈلا ماحول سُنج بیاباں۔

نواں دکان ٹیکس جو ہر دکاندار سے وصول کیا جاتا۔

دسواں ٹیکس متھے پاڑ ٹیکس جو ہلاک کرنے والا مشھور تھا آجکل کے زمانے واپڈا لا محدود اختیار استعمال کرتے ہوئے جو جرمانہ لگا دیتا ہے اسے متھے پاڑ ٹیکس کہا جا سکتا ہے ۔ عدالتوں کے پاس جرمانہ لگانے کےمحدود اختیارات ہیں واپڈا کے پاس لا محدود ہیں اس طرح واپڈا کو تمام ملکی اداروں پر سبقت حاصل ہے۔

bookmark_borderورلڈ منٹل ہیلتھ ڈے ( دماغی صحت کا عالمی دن ) ۔ تحریر قسور عباس بھٹہ

جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں خوراک جسم کو اور تعلیم ذہن کو صحت مند بناتی ہے ۔

منٹل ہیلتھ نہایت ہی ضروری ہے ایک صحت مند

ذہن ہی صحت منددانہ سوچ رکھتا ہے . مثبت سوچیں ہماری زندگی کو سہل بنا ہیں اور ہم ایک پرامن زندگی گزار سکتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں . صحت مند ذہن خوشی کے لمحات کو جی بھر کے جیتا ہے اور ہر طرح کے حالات میں ایک اچھا فیصلہ کرتا ہے اس کے برعکس غیر صحت مند ذہن منفی سوچوں کو بڑھاوا دیتا ہے اور ہم ہر وقت منفی سوچوں کے بھنور میں پھنس جاتے ہیں اور زندگی جینے کے مزے کو کھو دیتے ہیں اور غلط طرح کی عادات اپنا لیتے ہیں مثلا حسد ،لالچ ، نفرت جوکہ انسان کی خود کی دشمن ہوتی ہیں اس طرح کے منفی عمل سے خود کو ہی انسان سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے اور اپنا ہی جینا دوبھر کر دیتا ہے ۔۔۔۔

bookmark_borderقائد اعظم کا گاندھی کے نام خط ہندوستانی قوم کے نظریہ سے متعلق ۔ احمد الیاس

ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ،
مالابارہل، بمبئی۔
21 جنوری 1940.

پیارے گاندھی صاحب،

مجھے آپکا 16 جنوری کا تحریر کردہ خط اور ہریجن کو بھیجے گئے آپ کے مضمون کی پیشگی نقل موصول ہوگئی ہے۔ میں نہ صرف آپکی اس نوازش کے لیئے

Continue reading “قائد اعظم کا گاندھی کے نام خط ہندوستانی قوم کے نظریہ سے متعلق ۔ احمد الیاس”

bookmark_borderیہودیت کیا ہے ؟ احمد الیاس

گر آپ تقابلِ ادیان کے علماء اور طالب علموں سے سوال کریں کہ کون سا مذہب اسلام سے سب سے زیادہ مماثل اور کون سی ملت مسلمانوں سے سب سے بڑھ کر مشابہ ہے تو تقریباً سب یہودیت اور یہودیوں کا نام لیں گے۔

Continue reading “یہودیت کیا ہے ؟ احمد الیاس”

bookmark_borderسکھ مت یا سکھ ازم کیا ہے ؟ احمد الیاس

ہودیت تو ایک انتہائی قدیمی ابراہیمی دین ہے اور اسلام اور یہودیت کے درمیان بہت سی مقدس شخصیات مشترک ہیں۔ لہٰذا ان دونوں میں مماثلت تو ایک فطری بات ہے۔ لیکن ایک اور مذہب ایسا ہے جو اسلام سے بہت مماثل ہے۔ یہ مذہب بہت پرانا نہیں ہے بلکہ بمشکل پانچ سو سال کا ہے۔ اور یہ مذہب ابراہیمی بھی نہیں ہے بلکہ مذاہب کے ہندوستانی خاندان میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن اسلام، بالخصوص اسلامی تصوف نے اس پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

Continue reading “سکھ مت یا سکھ ازم کیا ہے ؟ احمد الیاس”

bookmark_borderقائدِ اعظم دا ملکہ برطانیہ نال حلفِ وفاداری ——– لالہ صحرائی

لوک آدھن جو قائد اعظم  نے آزادی ایلے جیہڑا حلف چاتا ہا اوندے اچ حکومت برطانیہ نال وفاداری دی ہایں  وی ہائ۔ جیہڑا ساݙے تے قائد کیتے  تے ساڈے کیتے شرم دی ڳالھ ہے ۔

انہاں سیانڑے اعتراض کرن آلاں کلوں منت ہے جو اگر ایہ اپنڑے کیتے شرم دی ڳالھ ہے تاں ہک واری کینی چار واری ہے کیوں جو قائد اعظم تاں چلو بھولے بھا ہن ، یا انگریز دے ایجنٹ ہن ، لیکن بعد آلے ترے گورنر جنرلز کو کیا مکانڑ ہائ جو آزادی دے  بعد ایݙے سالاں اوہو حلف چیندے رے ۔

یا  ڈھیڳ لوکیں کو تے اڄ پتہ لڳسی کہ ہک نہ بلکہ چار گورنر جنرل نے ایہ جرم کیتے ، یا ول سڄنڑ ڄانڑ کہ لکینن جو لوکیں کو معاملے دا

Continue reading “قائدِ اعظم دا ملکہ برطانیہ نال حلفِ وفاداری ——– لالہ صحرائی”

error: Content is protected !!