اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

حکمت آمیز باتیں-حصہ سوئم ذوالفقار علی بخاری

دل سے کہی باتیں اکثر ہمارے لئے مشعل راہ ثابت ہوتی ہیں۔
محبت کرنے والے کبھی بھی پیار کو تماشہ نہیں بنواتے ہیں مگر محبت کرنے والوں کو بُری نگاہ سے دیکھنے والے ہی اکثر اس کو تماشہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ نامراد محبت ہے ہی توہین کردینے والا عمل ہے۔محبت کے بعد شادی کا سوچنے والوں کو جس طرح سے دنیا والے تماشہ بنواتے ہیں وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم لوگ برائی کے عمل کے بعد اچھائی کرنے والوں کو کوئی رعایت دینے سے یکسر انکاری ہو چکے ہیں۔محبت میں مبتلا ہونے والے اپنے ہی پیاروں کو اپنی ناک کٹوانے کا ذمہ دارسمجھتے ہیں اور خاندان بھر کی رسوائی بھی انہی محبت کرنے والوں کے طفیل ہوتی ہے۔حالانکہ محبت کے بعد شادی کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹ دل کر ایسے لوگ خود اللہ کے حکم کے برعکس چل رہے ہیں کہ قرآن میں واضح حکم ہے کہ بے نکاح افراد کا نکاح کرا دینا چاہیے۔

سوچ بدلنے سے زندگی اکثر آسان ہی ہوا کرتی ہے۔

کسی دوسرے کے ساتھ زندگی تو ہم مجبوریوں کی وجہ سے گذارنے لگ جاتے ہیں مگر ماضی کی یادوں سے جان نہیں چھڑوا سکتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ آپ اس کے ساتھ ہی شادی کریں جس کے ساتھ آپ ذہنی اعتبار سے خوش و خرم رہ سکیں اور اچھی زندگی گذار سکیں۔

جس شخص نے زندگی کے تلخ تجربات سے سیکھا ہوتا ہے وہ جب اپنی سوچ کو بیان کرنے لگتا ہے تو اس میں بہت پختگی نظر آتی ہے۔ایسے لوگ ہی ہمیں دوسروں سے الگ بھی نظر آتے ہیں کہ وہ جو بیان کرتے ہیں وہ بہت کم ہی کہیں اور سے ہمیں معلوم ہوا ہوتا ہے۔

اپنی انا، ضد، خودغرضی اور دوسروں کا سوچ کر ہم اپنی زندگی سے کھیلتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ ہماری قسمت خراب ہے جب آپ چاہتے ہیں کہ کسی کو آپ کی زندگی میں رہنا چاہیے تو پھر ہرممکن کوشش کریں اور اس ہستی کو اپنی زندگی سے دور مت جانے دیں کہ ایسا کر کے آپ ساری عمر اک عذاب جھیلتے ہیں۔دنیا والے اگر رکاوٹ بنتے ہیں تو پھر آپ کو رکاوٹیں پار کرنے کا بھی حوصلہ رکھنا چاہیے ورنہ اس کارزار میں قدم ہی نیہں رکھنا چاہیے۔

مکافات عمل کو یاد رکھیں ایسا کرنے سے آپ کی زندگی خوشگوار رہے گی۔

موت برحق ہے اس سے ڈر کر ہم بس اپنی زندگی کو مزید اپنے اوپر تنگ کر لیتے ہیں۔ جب آپ یہ سوچ لیتے ہیں کہ مرنا ہے تو مرنا ہی ہے آپ کو نہ تو کوئی ایک دن پہلے مار سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مرنے سے بچا سکتا ہے۔
جناب ابھی سے آپ سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیں اور یہ سوچیں کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا،مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقت ور ہے مگر ابھی سوچ کو مثبت رکھیں کامیابی آپ کا مقدر بنے گی۔ انشا اللہ تعالی
یہ تحریر ان لوگوں کے نام ہے جو زندگی میں کسی خوف،ڈر سے گھبرائے ہوئے ہیں اور یہی بات انکو زندگی میں کچھ نہیں کرنے دے رہی ہے۔جب تک آپ میں کوئی خوف یا ڈر باقی ہے آپ ہرسکون نہیں رہ سکتے ہیں اور نہ ہی کامیابی آپ کو مل سکتی ہے۔

ہر حال میں انسان کو خوش رہنا چاہیے کہ غمی و خوشی زندگی کاحصہ ہیں مگر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری وجہ سے لوگوں کو بلاوجہ تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ مکافات عمل لازمی ہوتا ہے تب شاید ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے بھی کہیں غلطی کی ہوئی ہے۔

جب ہمارے دلوں میں بغض وکینہ،حسداور دوسرے سے خودکو افضل سمجھنا کی بری عادت موجود رہے گی اور ہم ایک دین کے پیروکار ہو کرکسی دوسرے مسلمان کو کافر کہہ کر یا پھر اپنے ہی کلمہ گو بھائی کے ساتھ بددیانتی کا مرتکب ہو کر کیسے اچھے مسلمان بن سکتے ہیں ؟ہم اگر اپنے اردگرد دیکھیں تو بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف اپنے مفاد کو حاصل کرنا ہے چاہے اس کے لئے کسی کی جان کو ہی لینا کیوں نہ پڑے جائے۔جھوٹ اور مکروفریب سے اپنے لئے دھن دولت جمع کرنے والے اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتے ہیں ؟

بہت سی باتیں(اچھی و بُری دونوں طرز کی)ہمارے ذہنوں میں اسطرح سے بٹھائی جاتی ہیں کہ ہم ساری زندگی اپنی طرف سے لاکھ کوشش کے باوجود ان سے چھٹکارہ نہیں پاسکتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ کورے کاغذ پر جو کچھ لکھا جاتاہے وہ اس کی پہچان بن جاتاہے اسی طرح سے ہماری جس انداز سے تربیت کی جاتی ہے وہ ہماری پہچان کا سبب بن جاتی ہے۔بالفرض اگر ہمیں شروع سے ہی دوسرے فرقہ سے نفرت کرانا سیکھائی جائے گی تو کیسے ہم چاہ کر بھی بعدازں اس سے محبت کا اظہارکر پائیں گے اورسامنے میٹھے نظرآنے کے بعد دور ہو کر دل میں عناد نہیں رکھیں گے؟

ہم چاہتے ہیں کہ جیسا ہم چاہتے ہیں ویسا ہی ہو لیکن کبھی کبھی ہمیں ویسا بھی کرنا چاہیے جیسا کہ ہم سے امید رکھی جا رہی ہوتی ہے کہ ہم ایسا کرلیں تو زیادہ بہترزندگی گذر سکتی ہے۔
ہم اپنی زندگی کو دوسروں کی خواہشات کے مطابق گذارنے کا سوچتے ہیں اور پھر ساری عمر شکوہ رہتا ہے کہ کاش ہم نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ اس لئے دوسروں کی نہیں اپنی خوشی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔

زندگی میں ہار تسلیم کرنے والے لوگ کبھی بھی جیت کا مزہ نہیں چکھ سکتے ہیں۔

ہم لوگوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی سوچ کے تابع اپنی زندگی کو گذارنے کا تو سوچتے ہیں مگراللہ کے حکم پر چلنے سے گریز کرتے ہیں۔

ہم انسانوں کے اندار بے پناہ حوصلہ اور کچھ کردکھانے کی صلاحیتں موجود ہوتی ہیں مگر بسا اوقات ہم اپنی کمزوری کی بدولت یا حالات سے خائف ہو کر ان سے درست طور پر کچھ کام نہیں لیتے سکتے ہیں اور لا علمی کی وجہ سے ہم یوں ہی اپنی زندگی گذر کر اس جہاں فانی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔مگر کبھی کھبار لوگوں کی حوصلہ افزائی یا خود شناسی اور سوچ کا زاویہ وسیع کرنےسے ہم بہت کچھ حاصل کر جاتے ہیں۔ اس دنیا میں یاد رکھئے گا کہ کوئی کام جب تک ہم یہ نہ سوچ لیں کہ وہ نا ممکن ہے،ممکن کر دکھانا مشکل نہیں ہوتا ہے بات محض ہمت اور حوصلہ و جرات کے ساتھ عمل کرنے اور آگے بڑھنے کی جستجو کی ہے۔

والدین کو اس بات کا بھی احساس کرنا چاہیے کہ اگر بچے اپنے مانی کرنا چاہ رہے ہیں تو وہ انکی خوشی میں شامل ہوں اور انکے مستقبل کے لئے دعا گورہیں تووالدین کے ساتھ اولاد بھی اپنی زندگی اچھے انداز سے بسر کر سکتی ہے

ہم برائی کی طرف مائل ہونے والے عوامل کا جب تک خاتمہ نہیں کریں گے، لوگ بے راہ روی کا شکار ہوتے رہیں گے۔

اپنے بچوں کی اسلام کے حقیقی اصولوں کے مطابق ان کی تربیت کریں اور تحمل و برداشت کا زندگی کے ہر معاملے مظاہر ہ کریں تو بہت سے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔کسی بھی لمحے کی جذباتی غلطی عمر بھر کا پچھتاوا بن سکتی ہے

اگر ہم یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ لوگ کیا کہیں گے تو نہ صرف ہم خود بلکہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو بھی اس کی غلامی سے نجات دلا سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں آنے والی نسلوں کو بھی اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور انکی زندگیوں کے لئے اس عذاب سے نجات دلا کر راستہ آسان بنا سکتے ہیں۔آخر میں صرف ایک چھوٹی سی بات کہ اگر ہم یہ سوچنا شروع کر دیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ تو لوگ کیا کر لیں گے؟
یہ لوگوں کا کام ہے یہ اُن کو کرنے دیں اور اپنی زندگی کو اپنی سوچ کے مطابق آسان بنائیں ،کل کو کوئی آپ کے مسائل حل کرنے کو نہیں آئے گا ۔آپ کو اپنے مسائل تنہا حل کرنے ہونگے تو لوگوں کی بجائے اپنے زوربازو پر یقین کامل کے ساتھ اپنے کاموں کو سرانجام دیں۔

اگر ہم اپنے ارد گر د نظر ڈالیں تو ہر انسان ہی ذہنی غلامی میں نظر آتا ہے۔لوگ کیا کہیں گے ہماری زندگیوں کے المیوں میں سے ایک بڑا المیہ ہے ،کیونکہ اس نے ہم سے آزاد رہنے کا حق چھین لیا ہے۔ہم بچپن سے لے کر بڑھاپے تک ہر دور میں زندگی کے ہر آگے بڑھنے والے قدم پہ،اپنی منزل تک پہچانے والی سیڑھی کے ہر اک قدم پہ ہمیں ہر لمحہ یہی خوف رہتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟

زندگی حوصلے سے جینے کا نام ہے اگر آپ حالات سے ڈر کے ہمت ہار دیں تو پھر آپ کو جینے کا کوئی حق نہیں ہے آپ نے سنا ہی ہوگا زندگی زندہ دلی کا نام ہے مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں؟ انسان اشرف المخلوقات ہو کر بھی ہمت ہار دے تو یہ انسانیت کی توہین کے مترادف ہے ذرا سوچئے اور حوصلہ پکڑئیے

Zulfiqar Ali Bukhari

Zulfiqar Ali Bukhari

جناب زیڈ۔اے بخاری صاحب سرائیکی خطے نال تعلق رکھن والے علم دوست شخصیت ہن،کئی اخباراں تے رسائل وچ لکھدے پے ہن۔

ایکوں شئیر کرن کیتے تلویں بٹن دباو

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئیٹر
Share on whatsapp
واٹس ایپ
Share on email
ای میل
Share on pinterest
پن ٹریسٹ
Share on google
گوگل
Share on telegram
ٹیلی گرام
Share on print
پرنٹ کرو
Free counters!
Archives
اشتہارات

اپنڑی ، دکان ، کاروبار ،سکول ، کالج ، آنلاین کاروبار ، یا کہیں وی قسم دے اشتہارات کیتے ساکوں ای میل کرو یا فیس بک تے میسج کرو۔

تلے آلا بٹن دباو

Free counters!
Archives
error: Content is protected !!