bookmark_borderمختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 5 (عصمت اللہ عصمت )۔ جہانگیر سوز

نام۔۔ عصمت اللہ عصمت گرمانی ولد محمد رمضان گرمانی قوم گرمانی

تخلص۔۔ عصت
سکونت۔ ۔ بستی شاہ
کھڈبزدار تحصیل تونسہ ضلع ڈی جی خان

Continue reading “مختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 5 (عصمت اللہ عصمت )۔ جہانگیر سوز”

bookmark_borderمختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 8 ( محمد رفیق ساگر)۔ جہانگیر سوز

ناں ۔۔۔ محمد رفیق ساگر

تخلص ۔۔۔ ساگر

سکونت— پروآ تحصیل پروآ ضلع دیرہ اسماعیل خان

تصانیف ۔ پہلا نعتیہ مجموعہ کلام ( پھونہار ) ڈوجھی کتاب ( جگارے) تریجھی ۔زیرِ طبع

Continue reading “مختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 8 ( محمد رفیق ساگر)۔ جہانگیر سوز”

bookmark_borderمختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 7 (عرفان بلوچ)۔ جہانگیر سوز

مختصر تعارفی سلسلہ
۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نام __ عرفان بلوچ
تخلص۔۔عرفان

سکونت _ بستی ڈگر والی تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان

bookmark_borderمختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 6 ( حنا عنبرین)۔ جہانگیر سوز

نام–حنا عنبرین

تخلص— حنا عنبرین

سکونت— کروڑ لعل عیسن – لیہ

تصانیف—
شعری مجموعہ ” حنایاب ” طباعت کے مراحل میں ہے

Continue reading “مختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 6 ( حنا عنبرین)۔ جہانگیر سوز”

bookmark_borderمختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 4 (سید بابر اقبال بابر )۔ جہانگیر سوز

مختصر تعارفی سلسلہ
نام– سید بابر اقبال بابر

تخلص— اقبال بابر

سکونت— کوتانی تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان

تصنیف— (مجموعہ کلام زیراشاعت اے عنقریب منظر عام تے آونڑ آلے)
Continue reading “مختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 4 (سید بابر اقبال بابر )۔ جہانگیر سوز”

bookmark_borderقائدِ اعظم دا ملکہ برطانیہ نال حلفِ وفاداری ——– لالہ صحرائی

لوک آدھن جو قائد اعظم  نے آزادی ایلے جیہڑا حلف چاتا ہا اوندے اچ حکومت برطانیہ نال وفاداری دی ہایں  وی ہائ۔ جیہڑا ساݙے تے قائد کیتے  تے ساڈے کیتے شرم دی ڳالھ ہے ۔

انہاں سیانڑے اعتراض کرن آلاں کلوں منت ہے جو اگر ایہ اپنڑے کیتے شرم دی ڳالھ ہے تاں ہک واری کینی چار واری ہے کیوں جو قائد اعظم تاں چلو بھولے بھا ہن ، یا انگریز دے ایجنٹ ہن ، لیکن بعد آلے ترے گورنر جنرلز کو کیا مکانڑ ہائ جو آزادی دے  بعد ایݙے سالاں اوہو حلف چیندے رے ۔

یا  ڈھیڳ لوکیں کو تے اڄ پتہ لڳسی کہ ہک نہ بلکہ چار گورنر جنرل نے ایہ جرم کیتے ، یا ول سڄنڑ ڄانڑ کہ لکینن جو لوکیں کو معاملے دا

Continue reading “قائدِ اعظم دا ملکہ برطانیہ نال حلفِ وفاداری ——– لالہ صحرائی”

bookmark_borderمختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 3 (ملک غلام اصغر ساجد لنگراہ ایڈووکیٹ )۔ جہانگیر سوز

مختصر تعارفی سلسلہ
نام۔۔۔ملک غلام اصغر ساجد لنگراہ ایڈووکیٹتخلص— ساجدسکونت— بستی کالو والا تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان

کتاب۔۔ برف بدن دے نیل

Continue reading “مختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 3 (ملک غلام اصغر ساجد لنگراہ ایڈووکیٹ )۔ جہانگیر سوز”

bookmark_borderمختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 2 ( نذر محمد )۔ جہانگیر سوز

مختصر تعارفی سلسلہ

نام— نزر محمد

تخلص— نزیر قیصرانی

سکونت— وہوا تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان

تصانیف— موسم گل استعارہ ہے، بارش تو ہو، اپنا درد سلامت رکھنا۔
ایوارڈ یافتہ ترانہ ( اک اور قدم ساتھی)

Continue reading “مختصر تعارفی سلسلہ سرائیکی ادبی شخصیات 2 ( نذر محمد )۔ جہانگیر سوز”

bookmark_borderمیٹھے نبی سائیں ﷺ دی حیاتی قسط دوئم ۔ تحریر دانیال حسن

:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبی شرافت

نبی کریمﷺ کی پیدائش سب سے اعلی و اشرف خاندان میں ہوئی۔ عرب میں قریش اور قریش میں بنو ہاشم سب سے عزت دار سمجھے جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی عزت دار قبیلے بنی ہاشم میں ہوئی۔.ترمذی شریف میں

: حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے

اللہ رب العزت نے مخلوق کو پیدا کیا اور مجھے ان میں سے سب سے بہتر گروہ میں پیدا کیا پھر قبائل میں سب سے بہتر قبیلے میں پیدا کیا پھر گھروں میں سب سے بہتر گھر میں پیدا کیا سو میں ذات کے اعتبار سے بھی سب

سے بہتر ہوں اور گھر کے اعتبار سے بھی۔

اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار نے مختلف اعتراضات کیے لیکن نسب پر گفتگو کی نوبت نہیں آئی۔بلکہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے جب ہرقل بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کے بارے پوچھا تو ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺکی شرافت نسبی کا اعتراف کیا حالانکہ اس وقت تک حضرت ابو سفیان نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور کفار چاہتے تھے کہ اگر کوئی گنجائش ملے تو آپ ﷺ پر عیب لگائیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔اور والدہ کی جانب سے نسب یہ ہے محمد بن آمنہ بنت وہب بن بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ کلاب بن مرہ پر دونوں شجرے آپس میں مل جاتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے برکات کا ظہور

جس طرح سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح صادق اور شفق احمر سورج کے طلوع ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اسی طرح آفتاب رسالت کے طلوع سے پہلے بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا بیان ہے کہ جب آپ علیہ السلام ان کے پیٹ میں تھے تو انہیں خواب میں بشارت دی گئی کہ وہ بچہ جو تمہارے حمل میں ہے اس امت کا سردار ہے جب وہ پیدا ہو تم اس کا نام محمد رکھنا۔ اور فرماتی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بصورت حمل میرے بطن میں تھے میں نے ایک نور دیکھا جس سے بصری اور شام کے محلات مجھے دکھائی دینے لگے۔اس جیسے اور بھی بے شمار واقعات ہیں جو آپ ﷺکی ولادت سے قبل ہی آپ کی برکات کی مظہر تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت

آپﷺ کی ولادت مشہور قول کے مطابق ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو اسی سال ہوئی جس سال یمن کے بادشاہ نے ہاتھیوں کی فوج لے کے بیت اللہ پر چڑھائی کی تھی اور اللہ رب العزت نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے ان کو ہلاک کیا تھا۔بعض حضرات نے تاریخ پیدائش دو بعض نے آٹھ او بعض نے نو ربیع الاول بھی بتائی ہے۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پیر کے دن ہوئی۔بعض مؤرخین نے آپ کی ولادت 20 اپریل 571 عیسوی ذکر کی ہے ان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسی علیہ السلام کے 571 سال بعد پیدا ہوئے.۔

 :والدین کریمین کی وفات

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والد ماجد عبداللہ مدینہ طیبہ گئے اور اتفاقا وہیں وفات پائی۔ابھی آپ ﷺکی عمر چار یا چھ برس ہوئی تو مدینہ سے واپسی پر ابواء کے مقام پر آپﷺ کی والدہ بھی رحلت فرما گئیں.۔

رضاعت و طفولیت

 

رضاعت کا مطلب ہے بچے کو دودھ پلانااور طفولیت کا مطلب ہے بچپن۔شرفائے عرب کی عام عادت تھی کہ اپنی اولادوں کو دودھ پلانے کے لیے قرب و جوار کے دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے جس سے ان کی نشو نما اور جسمانی صحت اچھی ہو جاتی تھی اور خالص عربی زبان بھی سیکھ لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدائش کے بعد تین دن تک والدہ محترمہ نے دودھ پلایا۔ اس کے بعد چند دن ابو لہب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کی باندی جس کا نام ثوبیہ تھا نے دودھ پلایا۔ اس کے بعد عرب کے رواج کے مطابق آپ کو حلیمہ سعدیہﷺ اپنے ساتھ اپنے قبیلے بنو سعد میں لے گئیں اور وہاں آپ نے ان کا دودھ پیا۔آپﷺ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہی تھے کہ دو فرشتوں نے آپﷺ کا سینہ چاک کر کے اس سے شیطان کا حصہ نکال باہر کیا اور ایمان و دانش سے بھر دیا۔اسی واقعہ کو شق صدر کا واقعہ کہا جاتا ہے.۔

دادا کی وفات

والدین کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی ذمہ داری آپ کے دادا نے لے لی۔ لیکن قدرت دکھلانا چاہتی تھی کہ یہ آفتاب عالم تاب اب محض آغوش رحمت میں پرورش پانے والا ہے۔ مسبب الاسباب اس کی تربیت کا خود کفیل ہو چکا ہے۔. لہذا جب آپ ﷺکی عمر آٹھ سال دو مہینے دس دن ہوئی تو آپﷺ کے دادا کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔.

 

حلیہ مبارک

آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسین و جمیل تھے۔میانہ قد سرخی مائل سفید رنگ کندھے کھلے ہوئے اور سینہ چوڑا تھا۔سر کے بال کان کی لو تک لمبے تھے اور بال سفید نہیں ہوئے تھے۔سر اور داڑھی میں کل بیس بال سفید چمک دار تھے۔آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔ بدن مبارک متناسب اور معتدل تھا۔خاموشی کے وقت رعب اور جلال برستا تھا اور گفتگو کے وقت تازگی اور لطافت جھلکتی تھی۔ جو شخص آپ ﷺکو دور سے دیکھتا تو آپ ﷺکو پیکر حسن و جمال سمجھتا اور جو قریب سے دیکھتا راحت و شیرینی محسوس کرتا۔آنحضرت ﷺکی گفتگو انتہائی میٹھی ہوتی تھی۔ پیشانی کشادہ تھی۔ ابرو باریک اور لمبے تھے۔ درمیان سے ملے ہوئے نہیں تھے۔ناک بلند رخسار نرم دانت مبارک چمک دار اور کشادہ تھے۔آپ ﷺکے دونوں کاندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ اور صفات بیان کرنے والوں کا کہنا ہے کہ میں نے آپﷺ سے پہلے یا آپ ﷺکے بعد آپﷺ جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا۔

حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر بالکل سچا اور آپ کے حلیے کے عین مطابق تھا۔۔۔

جاری ہے ۔

bookmark_borderٻالیں دے نفسیاتی مسائل (سکول دا ݙر ) قسط نمبر 2 ۔۔ قسور عباس بھٹہ

قسور عباس ملتان سائیکولوجی: قسط نمبر 2
(بالیں دے نفسیاتی مسائل ) ( سکول دا ڈر )
ڈوجھی قسط وچ اساں بالیں دے سکول کنوں ڈر جئیں اہم مسئلے تے گال کریندے ہوئیں پیو تے ماء کوں اے ڈساونر چاہندے ہیں جو اوو اپنڑیں بالیں کوں سکول دی عمر وچ سکول بھیجن جہڑی جو ماہرین نفسیات دے مطابق 5 تو 7 سال ہے. 1 توں 5 سال دی عمر وچ بال اپنڑیں پیو ماء بھیڑیں تے ہم عمریں کنوں ہک طرح دا علم حاصل کریندا پیا ہوندے جہڑا جو بال دی شخصیت دا خاص حصہ بنڑدے . اے مرض بالیں وچ تھیونڑ دیاں بہوں ساریاں وجوھات ہن چند اہم تلے درج کریندا پیاں

.
کتابیں دا خوف ●

شرارتی بالیں دیاں حرکتاں ●

سکول دا نا سازگار ماحول ●

استادیں دا جارہانہ رویہ ●

کم عمری●
انہاں وجوہات دی بناں تے بال وچ سکول دا خوف پیدا تھیندے . تے بال سکول نہ ونجن واسطے طرح طرح دے بہانے بنڑیندے مثلا میڈے ہنڑوں وچ درد اے ، میڈے پیٹ وچ درد اے .
اگر والدین ایں معاملے وچ سختی کرنڑ تاں ہوندے نتائج سنگین نکل سگدن یا اسلوں نرمی کرنڑ تاں بال خراب تھی ویسن . تاں درمیانی

راستہ اختیار کریندے ہوئیں درج گالہیں تے عمل کرنڑاں پوسی .
سکول دی خاص عمر وچ بالیں کوں سکول بھیجن ●
سکول دے اساتذہ نال رابطے وچ راہون ●
بالیں دے دوست بنڑین تاکہ انہاں کوں بال دے مسئلیاں دا پتہ چلے ●
مسئلے دی صورت وچ انہاں کوں اعتماد وچ گھنن  ●

 .

اساتذہ دا وی ہئیں مسئلے وچ اہم رول ہے۔  ●

انہاں کو وی اے چاہی دا ہے جو اپنڑاں جارہا نہ رویہ ختم کرنڑتے بالیں کوں پیار محبت کرن تے دوست بنڑ کے پڑھاو ●

 سکول دا ماحول سازگار بنڑاون ●

بالیں دی ڈیکھ بھال کرن ●

تے دوستانہ اصلاحی ماحول پیدا کرن ●
کیوں جو استاد تے والدین دا بال دی تربیت وچ کلیدی کردار ہے۔

error: Content is protected !!