bookmark_borderسرکشی ۔۔۔۔ ذوالفقار علی بخاری

 

ہرنی اپنے بچوں کے ساتھ محفوظ مقام پر رہنے جا رہی تھی۔اُس نے سنا تھا کہ شیرکے منہ کو جو خون لگا ہے اُس کے بعد یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔دراصل ہرنی کے کئی ننھے بچوں کا خون شیر نے پی لیا تھا۔اب اُس کے شب و روز اسی شکار کے ساتھ گذر رہے تھے، بھوک مٹ رہی تھی مگر جنگل کی فضا خاموش تھی۔

یہ حسن اتفاق تھا کہ ہرنی جس وقت اپنے بچوں کے ساتھ نکلی، اُسی وقت شیر پہاڑ کی چوٹی سے نیچے آ رہا تھا، اُسے کچھ سائے کہیں جاتے ہوئے نظر آئے تو اُس نے پیچھا کرنا مناسب سمجھا۔

پندرہ فٹ کے فاصلے سے یہ دیکھ کر شیر حیران ہو چکا تھا کہ یہ تو جنگل کی باغی ہرنی ہے۔ شیر کاسامنا کرنے سے ڈرتی تھی، اُس نے اپنے بچوں کو بھی آج تک محفوظ رکھا تھا۔

ہرنی کو خطرے کی بومحسوس ہوئی تو اُس نے بھاگنے کے لئے اپنے بچوں کو کہہ دیا، وہ سب ادھراُدھر بھاگ نکلے۔
مگر ہرنی کی آئی ہوئی تھی۔

شیر نے چند لمحوں میں اُس کو دبوچ لیا تھا،اب شیر کی جنگل میں حکمرانی ہے مگر ہرنی کے بچے اُ س حادثے کے جنگل لوٹ کر نہیں آئے، وہ جان گئے تھے جب تک بھوکے شیروں کو مارا نہیں جاتا تب تک وہ محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں۔سرکشی کو لگام دنیا ضروری ہوتا ہے تاکہ سکون قائم ہو سکے۔

bookmark_borderڈیرہ وال اور متھا پاڑ ٹیکس ۔ ایقان حیدرشیرازی

آج صبح میں بجلی کا بل دیکھ رہا تھا جس میں واپڈا کی اعلی خدمات کے سلسلے میں مختلف ٹیکس جو کنزومر پر لگائے جاتے ہیں اس کی تفصیل تھی۔ان ٹیکسوں کی تعداد صرف شدہ یونٹ کے علاوہ دس بنتی ہے جس کی تفصیل میں آپکو بتا دیتا ہوں۔ میٹر رینٹ۔ سروس رینٹ۔ انکم ٹیکس ۔ محصول بجلی ۔ایف سی سرچارج ۔ این جے سرچارج ۔جی ایس ٹی ۔ ٹیلیویژن فیس۔
اس کے علاوہ لیٹ پیمنٹ سرچارج ہے اور اس پر جی ایس ٹی علیحدہ ہے۔ خیر میری خوشی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب میں نے تاریخ کی کتابوں میں دیکھا کہ ڈیرہ والوں پر اس قسم کے ٹیکس تو دو سو سال پہلے سے لگائےجاتے تھے اور ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں واپڈا نے یہ مہربانی کی کہ ٹیکسوں کے نام انگریزی میں رکھ دیے۔ آپ حیران ہونگے کہ ہمارے آباو اجداد اور ڈیرہ کے باسی ایک نواب صاحب کی حکمرانی میں جو ٹیکس ادا کرتے تھے وہ مثالی تھے اور واپڈا والوں نے تاریخ پڑھ کر یہ خوبصورت ٹیکس لگائے جس کے لیے عوام تاریخ دہرانے پر واپڈا کے شکر گزار ہیں۔اب میں آپ کو ان تاریخی ٹیکسوں کی تفصیل بتاتا ہوں۔

پہلا ایک۔۔ پرنی ٹیکس تھا۔۔۔پرنی کے معنی یرقان کے ہیں جس سے آدمی کا خون خشک ہو کر رنگ زرد ہو جاتا ہے۔ نواب صاحب ہر سال اپنی مرضی کے مطابق ڈیرہ کی رعایا پر یہ پرنی
ٹیکس لگاتے جس کی کوئی مقدار مقرر نہیں تھی۔

دوسرا ٹیکس ۔۔۔کنجری ٹیکس تھا۔یہ ٹیکس غلہ کی ایک پتھ پیداوار ایک آنہ فی پتھ مقرر تھا جو نواب صاحب کی طوائف کو جاتا اور کنجری ٹیکس کہلاتا۔ آجکل مجھے پتہ نہیں چل سکا یہ کونسا ٹیکس کہلاتا ہو گا۔

تیسرا ۔۔جھجری ٹیکس تھا ۔ جس شخص کی شادی ہوتی اس سے دو روپے جھجری ٹیکس وصول کیا جاتا۔ جھجری نواب صاحب کی

صراحی کو کہتے تھے۔ پتہ نہیں اس صراحی میں اس ٹیکس سے کیا بھرا جاتا۔

 

چوتھا گھوڑا ٹیکس جو گاوں کا ہر گھوڑا رکھنے والا ادا کرتا۔

پانچواں ٹیکس۔پایہ غلہ تھا۔ ہندی میں پایہ ناحق بلا گلے پڑ جانے کو کہتے ہیں۔جب غلہ خراب ہوتا غریب محنت کشوں میں بانٹ کے یہ ٹیکس وصول کرتے۔ جو غریب نہ دے سکتا اس کے پاوں میں کاٹھ لگا دیتے جس سے چلنے پھرنے میں بہت تکلیف ہو تی۔ کئی کی جاییداد ضبط کی جاتی۔ کئی لوگ اس ٹیکس کے ڈر سے گھر چھوڑ جاتے تھے۔

چھٹا پٹکا ٹیکس تھا ۔جو شخص اچھا پٹکا باندھتا ایک روپے سے چار روپے تک ٹیکس دیتا تاکہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔

ساتواں ٹوپی ٹیکس تھا ۔صاف ستھری ٹوپی پر زیادہ اور میلی پر کم لگتا۔ ہندو عام طور پر کپڑے کی ٹوپی پہنتے اور ٹیکس والے کو آتے دیکھتے تو مٹی میں لتھیڑ کر میلا کر کے سر پر اوڑھ لیتے اور کم ٹیکس دیتے

۔آٹھواں ۔۔بُوھا ۔۔ٹیکس ہر دروازہ رکھنے والا آٹھ آنہ ماہوار دیتا ۔بہت کم لوگ حویلی کا دروازہ بناتے بس کوٹھا اور ہرطرف کھلا ڈلا ماحول سُنج بیاباں۔

نواں دکان ٹیکس جو ہر دکاندار سے وصول کیا جاتا۔

دسواں ٹیکس متھے پاڑ ٹیکس جو ہلاک کرنے والا مشھور تھا آجکل کے زمانے واپڈا لا محدود اختیار استعمال کرتے ہوئے جو جرمانہ لگا دیتا ہے اسے متھے پاڑ ٹیکس کہا جا سکتا ہے ۔ عدالتوں کے پاس جرمانہ لگانے کےمحدود اختیارات ہیں واپڈا کے پاس لا محدود ہیں اس طرح واپڈا کو تمام ملکی اداروں پر سبقت حاصل ہے۔

bookmark_borderیہودیت کیا ہے ؟ احمد الیاس

گر آپ تقابلِ ادیان کے علماء اور طالب علموں سے سوال کریں کہ کون سا مذہب اسلام سے سب سے زیادہ مماثل اور کون سی ملت مسلمانوں سے سب سے بڑھ کر مشابہ ہے تو تقریباً سب یہودیت اور یہودیوں کا نام لیں گے۔

Continue reading “یہودیت کیا ہے ؟ احمد الیاس”

bookmark_borderکیا تصوف اسلام سے الگ ایک مذہب ہے ؟ ۔۔۔ احمد الیاس

گزشتہ کچھ عرصے سے ایک بات مسلسل مشاہدے میں آرہی ہے۔ دو بظاہر متضاد طبقات یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ تصوف مرکزی دھارے کے اسلام سے علیحدہ مذہبی روایت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ان دونوں طبقات کے محرکات الگ ہیں۔ ایک طبقہ ایسا تاثر دے کر تصوف کی نفی و مذمت کرتا ہے اور دوسرا طبقہ ایسا کر کہ اس کا اثبات و تعریف۔ یہ دونوں طبقات اسلامی تمدنی روایت (کی اپنی اپنی خام تفہیم) سے بیزار ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایک کی بیزاری بنیاد پسندی کے نام پر ہے اور دوسرے کی جدت پسندی کے نام پر۔

Continue reading “کیا تصوف اسلام سے الگ ایک مذہب ہے ؟ ۔۔۔ احمد الیاس”

bookmark_borderلسانی مضامین ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے ۔

کتاب : لسانی مضامین

مصنف: اسلم رسول پوری

صنف : ادب

Continue reading “لسانی مضامین ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے ۔”

bookmark_borderلیکھے ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے ۔

کتاب : لیکھے

مصنف: اسلم رسول پوری

صنف : سرائیکی ادبی تنقید

Continue reading “لیکھے ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے ۔”

bookmark_borderI Am Still Threat to Them ، Aslam Rasool Puri , Availble at www.kitaabsaraiki.com

Name: I am still threat to them ( Urdu Translation)

Author : Aslam Rasool Puri

کتاب : آئ ایم سٹیل تھریٹ ٹو دی

مصنف : اسلم رسول پوری

Continue reading “I Am Still Threat to Them ، Aslam Rasool Puri , Availble at www.kitaabsaraiki.com”

bookmark_borderتلاوڑے ، اسلم رسول پوری کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے

کتاب :تلاوڑے

مصنف: اسلم رسول پوری

صنف : ادبی تنقید ، سرائیکی ادب Continue reading “تلاوڑے ، اسلم رسول پوری کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے”

error: Content is protected !!