bookmark_borderایرانی شاعرہ ‘فروغ فرخزاد’ کی ایک نظم ‘اسیر’ اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیے حسان خان

شعر “اسیر” از فروغ فرخزاد شاعر ایرانی را با ترجمه اردو بخوانید

[اسیر – فروغ فرخزاد]

ترا می‌خواهم و دانم که هرگز
به کامِ دل در آغوشت نگیرم
تویی آن آسمانِ صاف و روشن
من این کنجِ قفس، مرغی اسیرم
مجھے تمہاری آرزو ہے (لیکن) میں جانتی ہوں کہ جیسا میرا دل چاہتا ہے اُس طرح تمہیں آغوش میں نہیں لے پاؤں گی۔ تم وہ صاف اور روشن آسمان ہو جبکہ میں قفس کے اس کنارے میں ایک اسیر پرندہ ہوں۔

ز پشتِ میله‌های سرد و تیره
نگاهِ حسرتم حیران به رویت
در این فکرم که دستی پیش آید
و من ناگه گشایم پر به سویت
ان سرد اور تاریک جالیوں کے پیچھے سے میری پُرحسرت نگاہیں تمہارے چہرے کی جانب حیرانی سے تاک رہی ہیں۔ میں اس فکر میں ہوں کہ کوئی ہاتھ سامنے آئے اور میں اچانک تمہاری جانب پر پھیلا دوں۔

در این فکرم که در یک لحظه غفلت
از این زندانِ خامش پر بگیرم
به چشمِ مردِ زندانبان بخندم
کنارت زندگی از سر بگیرم
میں اس فکر میں ہوں کہ ایک غفلت کے لمحے میں اس خاموش زندان سے پرواز کر جاؤں اور مردِ زندان بان کی آنکھوں کے سامنے (اُس کی ناکامی ظاہر کرنے کے لیے) خندہ زن ہوں۔ بعد ازاں، تمہارے پہلو میں نئے سرے سے زندگی کا آغاز کر دوں۔

در این فکرم من و دانم که هرگز
مرا یارای رفتن زین قفس نیست
اگر هم مردِ زندانبان بخواهد
دگر از بهرِ پروازم نفس نیست
میں اس فکر میں تو ہوں لیکن میں جانتی ہوں کہ مجھ میں ہرگز اس قفس کو چھوڑنے کی توانائی نہیں ہے۔ اگر داروغۂ زندان بھی یہ چاہے تب بھی اب مجھ میں پرواز کے لیے سانس باقی نہیں رہی ہے۔

ز پشتِ میله‌ها، هر صبحِ روشن
نگاهِ کودکی خندد به رویم
چو من سر می‌کنم آوازِ شادی
لبش با بوسه می‌آید به سویم
ان جالیوں کے پیچھے سے ہر صبحِ روشن ایک بچّے کی نگاہیں میرے چہرے کے سامنے مسکراتی ہیں۔ میں جب بھی خوشی کا نغمہ شروع کرتی ہوں تو اُس کے لب بوسے کے ہمراہ مری جانب آتے ہیں۔

اگر ای آسمان خواهم که یک روز
از این زندانِ خامش پر بگیرم
به چشمِ کودکِ گریان چه گویم
ز من بگذر، که من مرغی اسیرم
اے آسمان! اگر میں چاہوں کہ ایک روز اس خاموش زندان سے پرواز کر جاؤں تو پھر میں (اُس) طفلِ گریاں کی آنکھوں سے کیا کہوں گی: (کیا یہ کہ) مجھے چھوڑ دو کہ میں ایک اسیر پرندہ ہوں؟

من آن شمعم که با سوزِ دلِ خویش
فروزان می‌کنم ویرانه‌ای را
اگر خواهم که خاموشی گزینم
پریشان می‌کنم کاشانه‌ای را
میں وہ شمع ہوں کہ اپنے دل کے سوز سے ایک ویرانے کو فروزاں کرتی ہوں۔ (لیکن) اگر میں چاہوں کہ خاموشی اختیار کر لوں تو میں ایک کاشانے کو درہم برہم کر دوں گی۔

(فروغ فرخزاد)

 

  التماس ، اگر آپ مندرجہ ذیل نظم کا سرائیکی ، بلوچی ، سندھی ، پشتو ، براھوی ،  پنجابی انگلش یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں ترجمہ لکھ دیں ہم اس ترجمہ کو اپکی زبان اور نام کے ساتھ اسی نظم میں اضافہ کر دیں گے شکریہ ۔

bookmark_borderکیا آپ جانتے ہیں کہ البانیہ کے قومی شاعر نعیم فراشری اپنی مادری زبان البانوی کے علاوہ فارسی زبان کے بھی شاعر تھے؟ حسان خان

کیا آپ جانتے ہیں کہ البانیہ کے قومی شاعر نعیم فراشری اپنی مادری زبان البانوی کے علاوہ فارسی زبان کے بھی شاعر تھے؟ اُن کی ایک فارسی نظم اردو ترجمے کے ساتھ پیشِ خدمت ہے:

 

  التماس ، اگر آپ مندرجہ ذیل نظم کا سرائیکی ، بلوچی ، سندھی ، پشتو ، براھوی ،  پنجابی  انگلش یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں ترجمہ لکھ دیں ہم اس ترجمہ کو اپکی زبان اور نام کے ساتھ اسی نظم میں اضافہ کر دیں گے شکریہ ۔

(بر تربتِ خواهر)
نزدِ گورت باز می‌آیم کنون
با دلِ بیمار و بیزار و زبون
از تو اینجا می‌نیابم یادگار
ای دریغا! جز بدین خاکِ مزار
لیک از هجر و فراقِ هشت سال
می‌شمارم این زیارت را وصال!
بعد از آن کز تو شدم مهجور و دور
گشته بودم دور نیز از خاکِ گور
می‌شناسی خواهرا! من کیستم؟
من ترا آخر برادر نیستم؟
چونکه از هجرت دلم گشتست زار
آمدم بهرِ تسلی بر مزار!
آه اگر لفظی ز تو بشنیدمی!
مر ترا گر بارِ دیگر دیدمی!
نیست آواه! رسم و راهی در جهان
در میانِ مردگان و زندگان!
اندرونم آتش است از اشتیاق
از غم و اندوه و اکدارِ فراق
پرِ جان از مرگ خواهم، تا پرم
تا بیایم نزدِ تو، ای خواهرم!
تا بیابم مر ترا اندر سما
در میانِ نور، نزدیکِ خدا
(نعیم فراشری)
۱۲۹۶ هجری

ترجمہ: (بہن کی قبر پر) میں بیمار، بیزار اور زبوں دل کے ساتھ اب دوبارہ تمہاری قبر کے پاس آ رہا ہوں۔۔۔ افسوس! اس خاکِ مزار کے سوا یہاں تمہاری کوئی یادگار نہیں پاتا۔۔۔ لیکن پھر بھی آٹھ سال کے ہجر و فراق کے بعد میں اس زیارت کو وصال کی طرح شمار کر رہا ہوں۔۔۔ تم سے جدا اور دور ہونے کے بعد میں تمہاری قبر کی خاک سے بھی دور ہو گیا تھا۔۔۔ اے بہن! پہچانتی ہو میں کون ہوں؟ آخر میں تمہارا بھائی نہیں ہوں؟ چونکہ تمہارے ہجر سے میرا دل بدحال ہو گیا ہے اس لیے تمہارے مزار پر تسلی کے لیے آیا ہوں۔۔۔ آہ اگر ایک لفظ تم سے سن پاتا! آہ اگر تمہیں ایک بار پھر دیکھ پاتا!۔۔۔ افسوس! اس جہاں میں مُردوں اور زندوں کے بیچ رسم و راہ نہیں ہوا کرتی۔۔۔ میرے اندر شوق، غم، اندوہ اور فراق کی تاریکی کے سبب آگ لگی ہوئی ہے۔۔۔ اے میری بہن! میں موت سے زندگی کے پر چاہتا ہوں، تاکہ اڑ کر تمہارے پاس آ سکوں، اور تمہیں آسمان میں خدا کے پاس اور نور کے درمیان دیکھ سکوں۔۔۔

یہ فارسی زبان کی عظمت کی دلیل ہے کہ صرف ایک صدی قبل تک بوسنیا سے لے کر بنگال تک کے اہلِ علم شعراء اپنے احساسات اور خیالات کے اظہار کے لیے فارسی کو ذریعہ بناتے تھے۔ا

bookmark_borderحافظ شیرازی کی ایک خوبصورت عرفانی غزل: هزار دشمنم ار می‌کنند قصدِ هلاک مترجم حسان خان

حافظ شیرازی کی ایک خوبصورت عرفانی غزل:

==========================

  التماس ، اگر آپ مندرجہ ذیل نظم کا سرائیکی ، بلوچی ، سندھی ، پشتو ، براھوی ،  انگلش یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں ترجمہ لکھ دیں ہم اس ترجمہ کو اپکی زبان اور نام کے ساتھ اسی نظم میں اضافہ کر دیں گے شکریہ ۔

 

هزار دشمنم ار می‌کنند قصدِ هلاک
گرم تو دوستی، از دشمنان ندارم باک
(چاہے ہزاروں دشمن مجھے ہلاک کرنے کا قصد کریں، اگر تم میرے دوست ہو تو مجھے دشمنوں کی پروا نہیں ہے۔)

مرا امیدِ وصالِ تو زنده می‌دارد
وگرنه هر دمم از هجرِ توست بیمِ هلاک
(اے معشوق، مجھے فقط تیرے وصل کی امید زندہ رکھتی ہے۔۔۔ ورنہ ہر لحظہ مجھے تیری دوری سے ہلاکت اور نابودی کا خوف ہے۔)

نفس نفس اگر از باد نشنوم بویش
زمان زمان چو گل از غم کنم گریبان چاک
(اگر میں ہر سانس میں ہوا سے معشوق کی خوشبو نہ سونگھوں، تو ہر وقت غم کی وجہ سے پھول کی طرح اپنا گریبان چاک کرتا رہوں۔)

رود به خواب دو چشم از خیالِ تو؟ هیهات!
بوَد صبور، دل اندر فراقِ تو؟ حاشاک!
(تیرے خیال کو چھوڑ کر میری دونوں آنکھیں سو جائیں؟ کبھی نہیں۔۔۔۔ تیرے فراق میں دل کو صبر آ جائے؟ کبھی نہیں۔۔۔۔)

اگر تو زخم زنی، به که دیگری مرهم
وگر تو زهر دهی، به که دیگری تریاک
(اگر تو زخمی کرے تو یہ دوسرے کے مرہم لگانے سے بہتر ہے۔۔۔ اگر تو زہر دے تو یہ دوسرے کے تریاق سے بہتر ہے۔)

بِضَربِ سَیفِکَ قَتلِی حَیاتُنا اَبَداً
لِاَنَّ رُوحِیَ قَد طابَ اَنْ یَکونَ فِداک
(تیری شمشیر سے میرا قتل میرے لیے حیاتِ ابدی ہے۔ بے شک، میری روح اس میں خوش ہے کہ تجھ پر قربان ہو جائے۔)

عنان مپیچ که گر می‌زنی به شمشیرم
سپر کنم سر و دستت ندارم از فتراک
(اے معشوق، اپنی باگ موڑ کر مجھ سے دور مت ہو، کیونکہ اگر تو مجھے تلوار سے بھی مارے گا تب بھی میں اپنے سر کو سپر بناؤں گا اور تیرے فتراک سے ہاتھ نہ ہٹاؤں گا۔)

تو را چنان که تویی، هر نظر کجا بیند؟
به قدرِ دانش خود هر کسی کند ادراک
(تو جیسا ہے اس طرح تجھے ہر نظر کہاں دیکھ سکتی ہے؟ ہر شخص اپنی سمجھ کے بقدر ہی ادراک کرتا ہے۔)

به چشمِ خَلق عزیزِ جهان شود حافظ
که بر درِ تو نهد رویِ مسکنت بر خاک
(مخلوق کی نگاہ میں حافظ اس وقت با عزّت ہو گا جب تیرے در پر عاجزی سے اپنا چہرہ دھر دے گا۔)

[حافظ شیرازی]

bookmark_borderسلسلہ تراجم ابیات محمد فضولی بغدادی مترجم حسان خان

«محمد فضولی بغدادی» نے ایک فارسی غزل کے مقطع میں خود ہی بہ زبانِ خود یہ پیشین‌گوئی کر دی تھی کہ ایک روز وہ مشہورِ جہان ہو جائیں گے، اور کِسی جگہ اُن کو “عاشق” اور کِسی جگہ “عارِف” کے لقب کے ساتھ پُکارا اور یاد کیا جائے گا:
خوانند فُضولی را گه عاشق و گه عارِف
مشهورِ جهان است او، هر جا لقبی دارد
(محمد فضولی بغدادی)
«فُضولی» کو گاہے عاشِق پُکارا جاتا ہے، اور گاہے عارِف۔۔۔ وہ مشہورِ جہاں ہے، وہ ہر جگہ اِک [خاص] لقب رکھتا ہے۔۔۔
(مُتَرجِم: حسّان خان)
  التماس ، اگر آپ مندرجہ ذیل نظم کا سرائیکی ، بلوچی ، سندھی ، پشتو ، براھوی ،  انگلش یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں ترجمہ لکھ دیں ہم اس ترجمہ کو اپکی زبان اور نام کے ساتھ اسی نظم میں اضافہ کر دیں گے شکریہ ۔

bookmark_borderکن توں پہلے ، سلمان ساہو ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے

کتاب : کن توں پہلے

مصنف :سلمان سہو

صنف: شاعری

Continue reading “کن توں پہلے ، سلمان ساہو ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے”

bookmark_borderحضرت سچل سر مست ، کرسٹوفر شیکل ، ترجمہ اسلم رسول پوری کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے

کتاب : سچل سر مست

مصنف : کرسٹوفر شیکل

ترجمہ : اسلم رسول پوری

صنف : سرائیکی شاعری ، سچل سر مست اور سرائیکی شاعری ، سچل سر مست کا کلام انگریزی میں

Sachal sarmast english poetry

Continue reading “حضرت سچل سر مست ، کرسٹوفر شیکل ، ترجمہ اسلم رسول پوری کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے”

bookmark_borderحمل لغاری ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے

کتاب : حمل لغاری

مصنف : اسلم رسول پوری

صنف : سرائیکی کلام سرائیکی شاعری

Continue reading “حمل لغاری ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے”

bookmark_borderبیدل سندھی ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے

کتاب : بیدل سندھی

مصنف اسلم رسول پوری

صنف : سرائیکی کلام

Continue reading “بیدل سندھی ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے”

bookmark_borderدو قدم کا ساتھی ، اسلم رسول پوری کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے ۔

کتاب : دو قدم کا ساتھی

مصنف : اسلم رسول پوری

Continue reading “دو قدم کا ساتھی ، اسلم رسول پوری کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے ۔”

bookmark_borderوگھری زندگی ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے

کتاب دا ناں :وگھری زندگی

مصنف : اسلم رسول پوری

 ،  موضوع : کلام عبدالطیف لطفن ، محمد ظریف خوشتر

Continue reading “وگھری زندگی ، اسلم رسول پوری ، کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے دستیاب ہے”

error: Content is protected !!