bookmark_borderستمبر توں پاکستان اچ سکول کھلدے پین۔ ماہر تعلیم ایاز کمبوہ دے نال اہم ڳالھ مہاڑ۔ وی لاگ ، ویڈیو

کل مورخہ 30 ستمبر توں  پاکستان اچ سکول مکمل کھلدے پین ، والدین کوں  ایں معاملے اچ کیا کیا  تیاری کرنی ہے جیندے نال ٻال کرونا وایرس توں محفوظ رہ سکن۔

استاداں کوں کیوں اپنڑا کردار ادا کرنے کہ ٻال تے انہاں دے خاندان تے استاد کیوں کرونا کوں  ودھنڑ توں روک سکدن۔

کل مورخہ 30 ستمبر سے کرونا وائرس کے بعد سکولز مکمل طور پر کھل جائیں گے۔والدین ایسے کیا اقدامات کریں کہ بچے کرونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔ اور اساتذہ کو کرونا وائرس کے پھیلاو میں کیسے کردار ادا کرسکتے ہیں۔

لائک اور شئیر کریں۔ چینل سبسکرائب کرنا نہ بھولیں

bookmark_borderکئیریر کاونسلنگ ۔ اپنڑا مستقبل دا شعبہ کیویں چنڑو ؟ وی لاگ ویڈیو ۔ محمد ایاز کمبوہ

السلام علیکم سجنڑاں کوں ۔  میں  محمد ایاز کمبوہ ، اسسٹ ڈائرکٹر  ، محکمہ تعلیم  اچ کم کرینداں۔

کتاب سرائیکی ڈاٹ کام تے خاص طور تے  پاکستان تے وسیب دے نوجواناں کیتے وی لاگز دا سلسلہ شروع کیتے ہر ویڈیو کئیریر کونسلنگ   ، استاداں دی پیشہ وارانہ  تے ملازمت بارے رہنمائ ، مفاد عامہ تے بنیادی انسانی حقوق بارے معلومات ، تے پڑھے لکھے نوجواناں کو  سرکاری نوکریاں کیتے تیاری دے متعلق رہنمای تے نال ماہرین نال انٹر ایکٹو سیشن وی ہوسن۔ جڑے راہوں

 

سلسلے دی پہلئ وڈیو۔

، یو ٹیوب چینل لازمی سبسکرئیب کریسو۔ شکریہ

bookmark_borderسرائیکی ثقافت کا مختصر تعارفی جائزہ تحریر ۔۔۔ محمد ایاز کمبوہ

سرائیکی ثقافت کا مختصر تعارفی جائزہ  تحریر: محمد ایاز کمبوہ

سرائیکی زبان کو میٹھی بولی کہا جاتا ہے جس کی تاثیر کو شہد سے میٹھا مانا جاتا ہے آج 6 مارچ کے دن دنیا بھر میں سرائیکی زبان

بولنے والے سرائیکی کلچر کا دن منا رہے ہیں جس کا مقصد سرائیکی زبان اور سرائیکی ثقافت کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔

آج کے دن کی مناسبت سے میں نے مناسب سمجھا کہ سرائیکی ثقافت کے چیدہ چیدہ پہلو پر مشتمل ایک مضمون لکھا جائے تاکہ سرائیکیوں کی نئی نسل کو ان کی روایات و ثقافت سے آگہی ہو سکے۔

سرائیکی کی تاریخ قدیم سندھی تہذیب سے جڑی ہے جو کہ کئی ہزار سال پرانی ہے۔ پاکستان میں سرائیکیوں کی اکثریت جنوبی پنجاب کے اٹھارہ اضلاع اور سندھ اور خیبرپختونخوا کے کچھ اضلاع میں رہتی ہے۔

ملتان ، بہاولپور ڈی جی خان کی ڈویژن کو خاص طور پر سرائیکی خطہ کہا جاتا ہے۔

لباس : سرائیکی وسیب میں عمومی طور پر شلوار قمیض ہی پہنا جاتا ہے جو کہ پاکستان کا قومی لباس ہے۔ لیکن خاص سرائیکی روایتی مردانہ لباس میں “لنگی اور چولہ (قمیص)”اور “گھیرولی ستھنڑ (شلوار)” شامل ہیں۔ کندھے پر رومال، پشمینہ یا چادر رکھنا سرائیکی لباس کا خاص حصہ مانا جاتا ہے۔ سر پر “پٹکا” باندھنا، ازرک(نیلی اجرک) اور ٹوپی پہننا سرائیکی ثقافت کی پہچان ہے۔

خواتین کے لباس میں شلوار قمیض کے ساتھ بوچھنڑ (دوپٹہ) اور “چنی( چنری)” کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔

کھانے: سوہانجنڑے دے پھل اور سوہانجنڑا سرائیکیوں کی مشہور ترین سبزی ہے جو بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔ گندلاں دا ساگ، مسی روٹی، پھکا کھوا، سوہن حلوہ، ڈھوڈھا، کپری، بھت، ککو، ڈیہلے آلی سےویاں، بلے آلی سےویاں، مال پورے اور چیلڑا سرائیکی روایتی کھانوں میں شامل ہیں

روایتی کھیل: سرائیکی روایتی کھیل انتہائی سادہ لیکن بہت دلچسپ ہیں جن میں ݙیٹی ݙنا یا گیٹی ڈنا (ڈیٹی ڈنڈا)، باندر کلا، پیٹو گرم، سٹاپو، ڈھٹھی گھوڑی، کبڈی اور یسو پنجو نمایاں ہیں ۔

 

آرٹ اور موسیقی :  “سرائیکی جھومر” کو پوری دنیا میں شہرت حاصل ہے۔ جھمر لفظ جھومنے سے نکلا ہے یعنی خوشی سے جھومنا۔ کوئی بھی خوشی کا موقع اور شادی بیاہ جھومر کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔ “پوچھڑا” ایک اور قسم کا ڈانس ہے جو خصوصی طور پر خواتین شادی بیاہ کے موقع پر خوشی کے اظہار کے طور پر کرتی ہیں۔

 

شعراء کرام اور گلوکار: سرائیکی شعراء میں خواجہ غلام فرید کو سب سے نمایاں مقام حاصل ہے جنہیں وسیب کا علامہ اقبال مانا جاتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی سرائیکی شاعری کی پہچان ہیں۔

گلوکاروں میں سائیں ظہور، پٹھانڑے خان، عطاء اللہ عیسی خیلوی، منصور ملنگی، اللہ ڈتہ لونڑے آلہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔

صوفیاء کرام: حضرت سخی سرور، شاہ گردیز، خواجہ غلام فرید، بہاؤالدین زکریا ملتانی، شاہ رکن عالم اور حافظ جمال دھرتی کے

صوفیاء میں شامل ہیں جنہوں نے خطے میں دین اسلام اور امن و محبت کا درس عام کیا

 

۔ تیڈا لہجہ ٻہوں کوڑا ہے، آ کوشش کر سرائیکی سکھ۔

error: Content is protected !!