bookmark_borderسرکشی ۔۔۔۔ ذوالفقار علی بخاری

 

ہرنی اپنے بچوں کے ساتھ محفوظ مقام پر رہنے جا رہی تھی۔اُس نے سنا تھا کہ شیرکے منہ کو جو خون لگا ہے اُس کے بعد یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔دراصل ہرنی کے کئی ننھے بچوں کا خون شیر نے پی لیا تھا۔اب اُس کے شب و روز اسی شکار کے ساتھ گذر رہے تھے، بھوک مٹ رہی تھی مگر جنگل کی فضا خاموش تھی۔

یہ حسن اتفاق تھا کہ ہرنی جس وقت اپنے بچوں کے ساتھ نکلی، اُسی وقت شیر پہاڑ کی چوٹی سے نیچے آ رہا تھا، اُسے کچھ سائے کہیں جاتے ہوئے نظر آئے تو اُس نے پیچھا کرنا مناسب سمجھا۔

پندرہ فٹ کے فاصلے سے یہ دیکھ کر شیر حیران ہو چکا تھا کہ یہ تو جنگل کی باغی ہرنی ہے۔ شیر کاسامنا کرنے سے ڈرتی تھی، اُس نے اپنے بچوں کو بھی آج تک محفوظ رکھا تھا۔

ہرنی کو خطرے کی بومحسوس ہوئی تو اُس نے بھاگنے کے لئے اپنے بچوں کو کہہ دیا، وہ سب ادھراُدھر بھاگ نکلے۔
مگر ہرنی کی آئی ہوئی تھی۔

شیر نے چند لمحوں میں اُس کو دبوچ لیا تھا،اب شیر کی جنگل میں حکمرانی ہے مگر ہرنی کے بچے اُ س حادثے کے جنگل لوٹ کر نہیں آئے، وہ جان گئے تھے جب تک بھوکے شیروں کو مارا نہیں جاتا تب تک وہ محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں۔سرکشی کو لگام دنیا ضروری ہوتا ہے تاکہ سکون قائم ہو سکے۔

bookmark_borderقائد اعظم کا گاندھی کے نام خط ہندوستانی قوم کے نظریہ سے متعلق ۔ احمد الیاس

ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ،
مالابارہل، بمبئی۔
21 جنوری 1940.

پیارے گاندھی صاحب،

مجھے آپکا 16 جنوری کا تحریر کردہ خط اور ہریجن کو بھیجے گئے آپ کے مضمون کی پیشگی نقل موصول ہوگئی ہے۔ میں نہ صرف آپکی اس نوازش کے لیئے

Continue reading “قائد اعظم کا گاندھی کے نام خط ہندوستانی قوم کے نظریہ سے متعلق ۔ احمد الیاس”

error: Content is protected !!